کلکتہ میں تربیتی کیمپ میں آ کر بی جے پی کے آل انڈیا لیڈر کی پیلے رنگ کی ڈائری گم ہو گئی!
کلکتہ میں رہنماوں اور کارکنوں کے تربیتی کیمپ میں آ کر ایک آل انڈیا بی جے پی لیڈر کی پیلے رنگ کی ڈائری گم ہو گئی۔ اس لیڈر کو اس بات کی فکر ہے۔ اگرچہ اب تک پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی، لیکن ڈائری کی تلاش جاری ہے۔ 16اگست کو گم ہونے کے باوجود اب تک ڈائری کا سراغ نہیں ملا۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق، اس ڈائری میں تنظیمی امور سے متعلق کئی اہم معلومات تھیں۔ کچھ معلومات انتہائی خفیہ تھیں۔ ڈائری کے گم ہونے سے ان خفیہ معلومات کے لیک ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ ڈائری کیسے گم ہوئی، اس پر شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔
ملک بھر میں بی جے پی کے رہنماوں اور کارکنوں کے تربیتی کیمپ جاری ہیں۔ 'پنڈت دین دیال اپادھیائے تربیتی مہا مہم' کے نام سے یہ پروگرام کلکتہ میں بھی ہوا۔ گزشتہ16 اگست کو نیو ٹاو¿ن کنونشن سینٹر میں یہ تربیتی کیمپ منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں مرکزی، ریاستی اور ضلعی سطح کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ وہاں موجود ہو کر آل انڈیا جوائنٹ جنرل سکریٹری (تنظیم) شیو پرکاش نے تربیت دی۔ وہ دہلی سے ایک پیلے رنگ کی ڈائری ساتھ لائے تھے۔ لیکن تربیتی کیمپ کے دوران ہی وہ ڈائری گم ہو گئی۔
بی جے پی ذرائع کے مطابق، پارٹی عہدیداران اور وابستہ تنظیموں کے ارکان ڈائری استعمال کرتے ہیں۔ وہ اس میں مختلف پروگراموں، اہم فیصلوں، مستقبل کے منصوبوں وغیرہ کو تفصیل سے لکھتے ہیں۔ آر ایس ایس کے عہدیداران بھی اسی طرح اہم پروگراموں اور فیصلوں کو ڈائری میں تحریر کرتے ہیں۔ اسی طرح بی جے پی لیڈر شیو پرکاش کی پیلے رنگ کی ڈائری میں بھی انتہائی اہم معلومات تھیں۔ بی جے پی ذرائع کے مطابق، اس ڈائری میں صرف مغربی بنگال ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کی تنظیمی معلومات موجود تھیں۔
تاہم اب تک پولیس میں اس معاملے کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ نیو ٹاو¿ن کنونشن سینٹر کو چھان مار کر دیکھ لیا گیا ہے۔ لیکن شیو پرکاش کی ڈائری کا پتہ نہیں چلا۔ تربیتی کیمپ کے بعد نیو ٹاو¿ن کنونشن سینٹر کے احاطے سے کل3 ڈائریاں ملی ہیں۔ ان میں ایک پیلے رنگ کی ڈائری ہے۔ لیکن وہ شیو پرکاش کی نہیں ہے۔ اس میں سب کچھ بنگالی زبان میں لکھا ہے۔ وہ بنگال کے کسی عہدیدار کی ہو سکتی ہے۔
کلکتہ میں تربیتی کیمپ میں آ کر بی جے پی کے آل انڈیا لیڈر کی پیلے رنگ کی ڈائری گم ہو گئی!...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments