رکن پارلیمنٹ فنڈ سے ترقیاتی کام نہیں ہو رہے: مہوا مترا کی سپریم کورٹ سے شکایت
کرشن نگر کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا کہ وہ اپنے لوک سبھا حلقے میں رکن پارلیمنٹ فنڈ سے ترقیاتی کام نہیں کروا پا رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ رکن پارلیمنٹ فنڈ کے تحت ہونے والے کاموں میں انہیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ نے ضلع انتظامیہ کو اس معاملے کی جانچ کرنے کی ہدایت دی۔ اگر وہاں مسئلے کا حل نہیں نکلتا تو مہوا کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔
مہوا نے بتایا کہ کرشن نگر میں ان کے رکن پارلیمنٹ فنڈ سے چلنے والے کم از کم 18 ترقیاتی منصوبے رکاوٹوں کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ اس معاملے پر جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے مالیا باگچی کی بنچ نے سماعت کی۔
مہوا کے وکیل گوپال شنکر نارائنن نے دعویٰ کیا کہ ضلع انتظامیہ کو خط لکھنے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ علاقے کے چند اسکولوں کی چھتوں کی تعمیر اور مرمت کے کام بھی باقی ہیں۔ مہوا کی خواہش کے باوجود ان کاموں کو آگے نہیں بڑھایا جا رہا ہے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے اس معاملے کی سماعت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی مسئلے سے متعلق ہے۔
ریاست کا موقف سننے کے بعد جسٹس باگچی نے مشاہدہ کیا کہ عدالت کی تشویش رکن پارلیمنٹ کے ذاتی حقوق کے بجائے ان ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کے بارے میں ہے۔ ان کے مفادات کا تحفظ کرنا عدالت کا مقصد ہے۔ اسی لیے ضلع انتظامیہ کو مہوا کی شکایات کی جانچ کرنی ہوگی۔ اگر انتظامیہ سے انہیں کوئی راحت نہیں ملتی تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں۔
رکن پارلیمنٹ فنڈ سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ کے معاملے کے علاوہ مہوا نے کرشن نگر کے سرکٹ ہاو¿س میں قیام کے مسئلے کی جانب بھی سپریم کورٹ کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ سرکٹ ہاو¿س میں قیام کے بعد رات کے وقت انہیں کمرہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
اس معاملے میں ریاستی حکومت نے یکم ستمبر کو ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مہوا جب سرکٹ ہاو¿س میں قیام کریں گی تو انہیں کم از کم تین سے چار دن پہلے انتظامیہ کو اطلاع دینی ہوگی۔
جمعہ کو سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ صرف ایک دن پہلے اطلاع دینا کافی ہوگا۔ انتظامیہ کو قواعد کے مطابق ان کے قیام کا انتظام کرنا ہوگا۔
سرکٹ ہاو¿س کے معاملے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ علاقے کی منتخب عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے مہوا کو سرکٹ ہاو¿س میں قیام کے معاملے میں ترجیح ملنی چاہیے۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے اس میں یہ شرط شامل کرنے کی کوشش کی کہ کمرہ خالی ہونے کی صورت میں ہی انہیں قیام کی سہولت دی جائے۔ تاہم، عدالت نے اس معاملے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
رکن پارلیمنٹ فنڈ سے ترقیاتی کام نہیں ہو رہے: مہوا مترا کی سپریم کورٹ سے شکایت...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments