Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

کتابیں تو فروخت ہی نہیں ہوتیں‘، بک اسٹال پر دلیپ گھوش کا طنز

Admin
By Admin
Oct 16, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

کتابیں تو فروخت ہی نہیں ہوتیں‘، بک اسٹال پر دلیپ گھوش کا طنز
کتابیں تو فروخت ہی نہیں ہوتیں‘، بک اسٹال پر دلیپ گھوش کا طنز — October 16, 2026
کتابیں تو فروخت ہی نہیں ہوتیں‘، بک اسٹال پر دلیپ گھوش کا طنز
ہر سال درگا پوجا کے موسم میں بائیں بازو کی جماعتیں پوجا پنڈالوں کے قریب کتابوں کے اسٹال لگاتی ہیں۔ اس مرتبہ اس معاملے پر تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ خود وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے کہا تھا کہ ’شاردا ا±تسو‘ نہیں، بلکہ ’درگا پوجا‘ لکھنا ہوگا۔ بعد میں بن گاو¿ں میں بک اسٹال لگانے کا معاملہ کلکتہ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا، جہاں اسٹال لگانے کی اجازت مل گئی۔ اس ماحول میں ریاستی وزیر دلیپ گھوش نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”لگانے دو، کتابیں تو فروخت ہوتی ہی نہیں ہیں۔“ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ آئیے جانتے ہیں کہ بائیں بازو کی جماعتیں ہر سال پوجا کے اسٹالوں سے کتنے روپے کی کتابیں فروخت کرتی ہیں۔
ہر سال درگا پوجا کے دوران پورے مغربی بنگال میں بائیں بازو کی جماعتیں ہزاروں بک اسٹال لگاتی ہیں۔ صرف کولکاتا میں ہر سال ان اسٹالوں کی تعداد ۱۰۰ سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان اسٹالوں پر کیا ملتا ہے؟ مارکس وادی اور کمیونسٹ لٹریچر کے ساتھ ساتھ مقبول بنگالی ادب، سائنس اور مختلف موضوعات پر کتابیں بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ سوامی وویکانند پر لکھی گئی کتابیں بھی رکھی جاتی ہیں۔
تاہم، یہ جماعتیں اپنے اسٹالوں پر کبھی ’درگا پوجا‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کرتیں، بلکہ ’شاردا ا±تسو‘ لکھتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو اسی بات پر سخت اعتراض تھا۔ بن گاو¿ں کے بک اسٹال کا معاملہ عدالت پہنچنے پر کہا گیا تھا، ”یہاں لاٹری تو فروخت نہیں کی جارہی، کتابیں ہی فروخت ہوں گی۔“
لیکن گزشتہ چند دنوں کے دوران کئی بک اسٹالوں پر حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اسی دوران ششٹھی کی صبح دلیپ گھوش نے کہا، ”ہر کوئی اسٹال لگا سکتا ہے۔ اتنے دنوں سے لگاتے آرہے ہیں، تو لگاتے رہیں۔ کتابیں تو فروخت ہوتی ہی نہیں ہیں۔ ۲۵ سال سے وہی کتابیں رکھی ہوئی ہیں، جن کی صرف نمائش ہوتی ہے۔ اسے اسٹال کہنے کے بجائے نمائش کہیے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ ڈراما کرکے خبروں میں آنے کی کوشش کرتے ہیں۔“

کتابیں تو فروخت ہی نہیں ہوتیں‘، بک اسٹال پر دلیپ گھوش کا طنز...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn