کٹاو سے متاثرہ بچوں کے لیے کوچنگ سینٹر کو اسکول میں تبدیل کرنے کی کوشش
سی پی ایم کی نوجوانوں کی تنظیم ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (ڈی وائی ایف آئی) نے بھوتنی جزیرے پر واقع اپنے کوچنگ سینٹر کو مکمل اسکول میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جہاں بچوں کو بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ بھوتنی دریا کے کناروں کے کٹاو¿ اور سیلاب کے خطرے سے دوچار ایک چھوٹا جزیرہ ہے۔
ڈی وائی ایف آئی کے ریاستی سکریٹری دھرو جیوتی ساہا نے بدھ کے روز بھوتنی کے ہیراننداپور میں واقع کوچنگ سینٹر ’سبودھ چودھری پاٹھ شالا‘ کا دورہ کیا۔ اس مرکز کے قیام کو تقریباً ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور ان کے اہل خانہ میں درگا پوجا کے تحائف تقسیم کیے۔پیپلز ریلیف کمیٹی نے سیلاب کے بعد مرکز میں زیرِ تعلیم ۱۶۰ طلبہ کی جسمانی اور ذہنی صحت کا جائزہ لینے کے لیے ایک طبی کیمپ بھی منعقد کیا۔ اس مرکز میں طلبہ کو پڑھنے، لکھنے اور حساب کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔
دھرو جیوتی ساہا نے کہا، ”دریا کے کناروں کا شدید کٹاو اور بار بار آنے والے سیلاب نے پورے جزیرے میں تعلیم کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ محدود مالی وسائل کے باوجود ہم نے گزشتہ سال اس پاٹھ شالا کا آغاز کیا تھا تاکہ ان غریب طلبہ کی مدد کی جاسکے جو ان قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ہمارا ارادہ ہے کہ بتدریج اس کوچنگ سینٹر کو ایک مکمل اسکول میں تبدیل کیا جائے، خاص طور پر اس لیے کہ یہاں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد اور حاضری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔“
مانک چک کے رہائشی اور مالدہ ضلع میں سی آئی ٹی یو کے سکریٹری دیب جیوتی سنہا سال بھر اس کوچنگ سینٹر کے روزمرہ کے کام کاج کی نگرانی کرتے ہیں۔سنہا نے کہا، ”ابتدا میں ہمارا منصوبہ صرف ایک سال تک کوچنگ سینٹر چلانے کا تھا۔ لیکن موجودہ حالات نے ہمیں بڑے پیمانے پر سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔“اس پاٹھ شالا کا آغاز ۵۰ طلبہ کے ساتھ ہوا تھا، لیکن صرف ایک سال میں یہاں طلبہ کی تعداد بڑھ کر ۱۶۰ ہوگئی ہے۔سنہا نے مزید کہا، ”طلبہ کی تعداد میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ کٹاو¿ اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے بچوں کو باقاعدہ اور منظم تعلیم کی کتنی ضرورت ہے۔ گنگا پہلے ہی دو اسکولوں کو نگل چکی ہے، لیکن تعلیم کا سلسلہ نہیں رک سکتا۔ اسی لیے ہم کوچنگ سینٹر کو اسکول میں تبدیل کرنے کے امکانات پر ڈی وائی ایف آئی کی ریاستی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں۔“
اس مرکز کا نام مرحوم سبودھ چودھری کے نام پر رکھا گیا ہے، جو متھراپور ہائی اسکول میں انگریزی کے سابق استاد اور سابق بائیں محاذ حکومت میں وزیر مملکت رہ چکے تھے۔چودھری مانک چک اسمبلی حلقے سے تین مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ مالدہ کی لوک ثقافت پر اپنی تحقیق کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔دوسری جانب، بی جے پی کے مالدہ جنوبی تنظیمی ضلع کے صدر اجے گنگولی نے ڈی وائی ایف آئی کے اس منصوبے کو ”حد سے زیادہ بلند حوصلہ“ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔
گنگولی نے کہا، ”وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کی ہدایت کے مطابق ریاستی حکومت نے بھوتنی میں تعلیمی نظام کو بحال کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ قدرتی آفت کے دوران بھی انتظامیہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے تعلیم جاری رہے۔ سی پی ایم کی نوجوان تنظیم کی جانب سے پارٹی کے زیرِ انتظام اسکول قائم کرنے کا منصوبہ محض سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے اور اس کے عملی شکل اختیار کرنے کا امکان کم ہے۔“
کٹاو سے متاثرہ بچوں کے لیے کوچنگ سینٹر کو اسکول میں تبدیل کرنے کی کوشش...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments