Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی وارڈ بندی پر فیصلہ جمعہ کو، اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان نہیں ہوگا، ہائی کورٹ کی ہدایت

Admin
By Admin
Nov 05, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی وارڈ بندی پر فیصلہ جمعہ کو، اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان نہیں ہوگا، ہائی کورٹ کی ہدایت
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی وارڈ بندی پر فیصلہ جمعہ کو، اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان نہیں ہوگا، ہائی کورٹ کی ہدایت — November 05, 2026
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی وارڈ بندی پر فیصلہ جمعہ کو، اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان نہیں ہوگا، ہائی کورٹ کی ہدایت
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی ازسرِنو حدبندی (ڈیلمیٹیشن) سے متعلق مقدمے کا فیصلہ آنے سے پہلے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے یہ ہدایت دی ہے۔ اس معاملے میں آئندہ جمعہ کو فیصلہ سنایا جائے گا۔ اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکے گا۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں پہلے 144 وارڈ تھے، جن کی تعداد بڑھا کر 209 کر دی گئی ہے۔ وارڈوں کی اس نئی حدبندی کو قانونی ضابطوں کے مطابق نہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کَسبہ کے رہنے والے سی پی آئی ایم کارکن دیپو داس نے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے اس معاملے میں کوئی عبوری حکم جاری کیے بغیر دونوں فریقوں سے حلف نامہ طلب کیا تھا۔
جسٹس ہیرن موئے بھٹاچاریہ نے ریاستی حکومت کو چار ہفتوں کے اندر اور اس کے بعد اگلے دو ہفتوں میں عرضی گزار کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم، سنگل بنچ کے اس موقف کو چیلنج کرتے ہوئے عرضی گزار نے ڈویڑن بنچ سے رجوع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چھ ہفتے انتظار کیا گیا تو اس دوران بلدیاتی انتخابات ہو جائیں گے اور مقدمے کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔
اس معاملے کی سماعت بدھ کو جسٹس سبیا ساچی بھٹاچاریہ اور جسٹس ارجن رائے مکھرجی کی ڈویڑن بنچ میں ہوئی۔
ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ میں مقدمے کی فوری سماعت کی درخواست کی گئی تھی، تاہم اس وقت ججوں نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ بدھ کو مقررہ فہرست کے مطابق وارڈوں کی حدبندی سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ڈویڑن بنچ نے واضح کیا کہ ریاستی الیکشن کمیشن فی الحال بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کر سکتا۔ وارڈوں کی ازسرِنو حدبندی سے متعلق مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے اور جمعہ کو فیصلہ سنایا جائے گا۔ اس سے پہلے انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکتا۔ عرضی گزار کی جانب سے ہائی کورٹ میں وکیل بکاش رنجن بھٹاچاریہ نے دلائل پیش کیے۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی تعداد بڑھانے کے سلسلے میں ریاستی حکومت نے گزشتہ 11 ستمبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا۔ الزام ہے کہ وارڈوں کی حدود دوبارہ طے کرتے وقت مناسب توازن برقرار نہیں رکھا گیا۔ وارڈوں کی آبادی، جغرافیائی محل وقوع اور انتظامی مطابقت جیسے پہلوو¿ں پر بھی مناسب طور پر غور نہیں کیا گیا۔
عرضی گزار نے وارڈوں کی نئی حدبندی کے جواز پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کام کسی ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے اس معاملے پر غور کرنے کی درخواست کی۔ اس کے نتیجے میں وارڈوں کی نئی حدبندی کو لے کر سیاسی بحث بھی شروع ہو گئی۔ کئی حلقوں کا خیال ہے کہ اس کا اثر انتخابی نتائج کے حساب کتاب پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اس مقدمے میں وکیل بکاش رنجن بھٹاچاریہ نے دلیل دی کہ میونسپل کارپوریشن تحلیل ہونے کے بعد میونسپل کمشنر کے پاس وارڈوں کی نئی حدبندی کی سفارش کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے، لیکن انہوں نے اس اختیار کا استعمال کیا۔
دوسری جانب، میونسپل کارپوریشن کی طرف سے ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل س±رجیت ناتھ مترا نے جوابی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بڑھائے گئے وارڈوں کا مسودہ جاری کیا گیا تھا اور اس وقت اعتراضات اور تجاویز پیش کرنے کا موقع بھی دیا گیا تھا، لیکن اس وقت کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ اب جمعہ کو کلکتہ ہائی کورٹ کا فیصلہ سامنے آئے گا۔

کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی وارڈ بندی پر فیصلہ جمعہ کو، اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان نہیں ہوگا، ہائی کورٹ کی ہدایت...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn