Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

آدھار منسوخی‘ کی مہم سے حکومت کا اصل ایس آئی آر منصوبہ بے نقاب، لاکھوں لوگوں کو فلاحی اسکیموں سے محروم کرنے کی کوشش: کانگریس

Admin
By Admin
Nov 05, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

آدھار منسوخی‘ کی مہم سے حکومت کا اصل ایس آئی آر منصوبہ بے نقاب، لاکھوں لوگوں کو فلاحی اسکیموں سے محروم کرنے کی کوشش: کانگریس
آدھار منسوخی‘ کی مہم سے حکومت کا اصل ایس آئی آر منصوبہ بے نقاب، لاکھوں لوگوں کو فلاحی اسکیموں سے محروم کرنے کی کوشش: کانگریس — November 05, 2026
آدھار منسوخی‘ کی مہم سے حکومت کا اصل ایس آئی آر منصوبہ بے نقاب، لاکھوں لوگوں کو فلاحی اسکیموں سے محروم کرنے کی کوشش: کانگریس
ووٹر لسٹوں سے نام حذف کرنے کا عمل وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد لاکھوں لوگوں کو سیاسی نمائندگی اور فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم کرکے انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔ کانگریس نے جمعرات کو مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یہ الزام لگایا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فلاحی اسکیموں کے مستحقین کی شناخت کے لیے آدھار کی جگہ ووٹر شناختی کارڈ نمبر اور بایومیٹرک تصدیق کا استعمال کیا جائے گا۔

کانگریس رہنما پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا، ’’یہی منصوبہ شروع سے تھا۔ ایس آئی آر کی مشق کے تحت پہلے ہی کم از کم 13.3 کروڑ ہندوستانیوں کے نام انتخابی فہرستوں سے ہٹائے جا چکے ہیں۔ اب ووٹر شناختی کارڈ نہ ہونے کو راشن، رہائش، ہیلتھ انشورنس اور روزگار کی ضمانت سے محروم کرنے کی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’یہ ایک بڑا منصوبہ ہے۔ پہلے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرکے ان کی سیاسی آواز چھینی جائے گی۔ پھر ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم کیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لاکھوں ہندوستانی جمہوری اور فلاحی نظام دونوں سے باہر ہو جائیں گے۔ انہیں دوسرے درجے کا شہری بنا کر ان حقوق سے محروم کر دیا جائے گا جو انہیں بحیثیت شہری حاصل ہیں۔‘‘

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوال اٹھایا کہ کیا سنگھ کا بیان حکومت کے باضابطہ فیصلے کی عکاسی کرتا ہے؟

جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا، ’’کیا اب یہ مودی حکومت کی باضابطہ پالیسی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آدھار کا استعمال اس بنیادی مقصد کے لیے نہیں کیا جائے گا جس کے لیے اسے بنایا گیا تھا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی اس بات پر جائز تشویش رہی ہے کہ آدھار کے استعمال کے طریقہ کار کی وجہ سے لاکھوں افراد سماجی فلاح و بہبود اور تحفظ کی اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق، خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد فلاحی اسکیموں کے فوائد کو انتخابی فہرستوں سے جوڑنے سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جے رام رمیش نے کہا، ’’ووٹ چوری تو صرف ٹریلر ہے۔ پوری فلم حقوق اور مراعات کی چوری ہے۔‘‘

راجیو رنجن سنگھ، جنہیں لالن سنگھ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے کہا تھا کہ فلاحی اسکیموں کی ادائیگیوں میں آدھار پر مبنی شناخت کے بجائے ایسا نظام اپنایا جائے گا جس میں مستحقین کے بایومیٹرک ڈیٹا اور ووٹر شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) نمبر استعمال ہوں گے۔

تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس مجوزہ نظام کے تحت کن کن اسکیموں کو شامل کیا جائے گا۔

کانگریس کے سوشل میڈیا شعبے کی سربراہ سپریا شرینیت نے الزام لگایا کہ ان بیانات سے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے پیچھے اصل مقصد سامنے آ گیا ہے، یعنی لوگوں کو راشن، رہائش اور صحت کی سہولیات سے محروم کرنا۔

سپریا شرینیت نے کہا، ’’ووٹر لسٹ سے آپ کا نام حذف کرکے صرف آپ کا جمہوری حق ہی نہیں چھینا جا رہا، بلکہ بحیثیت شہری آپ کے وجود کو بھی مٹایا جا رہا ہے۔‘‘

لالن سنگھ نے وزارت پنچایتی راج کے زیر اہتمام ایک قومی ورکشاپ میں یہ بیان دیا تھا۔ مستحقین کی شناخت کے لیے آدھار کی قابل اعتماد حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر علاقے میں آدھار اندراج کی سہولت دستیاب ہے اور محض پانچ منٹ میں آدھار کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آدھار سے منسلک بینک کھاتوں کے ذریعے فی الحال کئی مرکزی فلاحی اسکیموں کی رقم مستحقین تک پہنچائی جاتی ہے۔ ان میں پی ایم کسان، دیہی رہائشی امداد اور معمر افراد، بیواؤں اور معذور افراد کی پنشن شامل ہیں۔

مجوزہ تبدیلی پر اس لیے تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگر فلاحی اسکیموں کی ادائیگیوں کو انتخابی ریکارڈ سے جوڑ دیا گیا تو ان اہل مستحقین کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے جن کے نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہیں۔

لالن سنگھ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ مجوزہ تبدیلی صرف ان کی وزارتوں کے تحت چلنے والی اسکیموں پر لاگو ہوگی یا تمام مرکزی فلاحی اسکیموں پر۔ ان کے بیان میں اس نظام کے نفاذ کی کوئی تاریخ بھی نہیں بتائی گئی۔

آدھار منسوخی‘ کی مہم سے حکومت کا اصل ایس آئی آر منصوبہ بے نقاب، لاکھوں لوگوں کو فلاحی اسکیموں سے محروم کرنے کی کوشش: کانگریس...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn