کنٹریکٹ پر کام کرنے والے تعلیمی ملازمین کی تنخواہوں میں ایک جھٹکے میں 5 سے 10 ہزار روپے کا اضافہ
تہواروں کے موسم سے عین قبل مغربی بنگال حکومت نے ریاست کے ہزاروں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے تعلیمی ملازمین اور پیرا ٹیچرز کے لیے بڑی تنخواہ میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی پلاننگ اینڈ بجٹ شاخ کی جانب سے جاری کردہ ایک ہدایت نامے میں یہ ’خوشخبری‘ دی گئی ہے۔
ریاستی کابینہ اور گورنر کی منظوری کے بعد یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جو جمعرات، یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔ ہدایت نامے کے مطابق زیادہ تر عہدوں پر ماہانہ تنخواہ میں ایک ساتھ 5,000 سے 6,000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں پرائمری سطح کے پیرا ٹیچرز اور ایس ایس کے کے معاونین کی تنخواہ 11,941 روپے سے بڑھ کر 16,941 روپے ہو جائے گی۔ اعلیٰ پرائمری کے پیرا ٹیچرز اور ایم ایس کے کے اساتذہ کی تنخواہ 15,523 روپے سے بڑھا کر 20,523 روپے کر دی گئی ہے۔ شِکشا بندھوو¿ں کی نئی تنخواہ 14,954 روپے اور اسپیشل ایجوکیٹرز کی تنخواہ 19,924 روپے ہوگی۔
اسی طرح پارٹ ٹائم ہائر سیکنڈری ٹیچرز کی نئی تنخواہ 20,218 روپے، اکیڈمک سپروائزرز کی 18,781 روپے اور پی اے کم ڈی ای اوز کی تنخواہ 19,774 روپے ہوگی۔ ان تمام عہدوں پر 5,000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ہیڈ ٹیچرز اور ڈسٹرکٹ کوالٹی مینیجرز کی تنخواہوں میں ایک ساتھ 6,000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کی نئی تنخواہیں بالترتیب 22,178 روپے اور 25,692 روپے ہوں گی۔
مینجمنٹ اسٹاف کے معاملے میں موجودہ تنخواہ کی بنیاد پر تین درجوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جن کی تنخواہ 25 ہزار روپے سے کم ہے، انہیں 5,000 روپے کا اضافہ ملے گا۔ 25 ہزار سے 40 ہزار روپے کے درمیان تنخواہ پانے والے ملازمین کی تنخواہ میں 7,000 روپے اور 40 ہزار سے 55 ہزار روپے کے درمیان تنخواہ پانے والے ملازمین کی تنخواہ میں 10,000 روپے کا اضافہ کیا جائے گا۔
اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی ایڈیشنل سکریٹری ایشا مکھرجی کی جانب سے جاری کردہ اس ہدایت نامے نے طویل عرصے سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کے چہروں پر خوشی بکھیر دی ہے۔
تاہم بنگئیہ شکشک او شکشاکرمی سمیتی کے جنرل سکریٹری سواپن منڈل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے بجٹ میں اعلان کیا تھا کہ پیرا ٹیچرز سمیت تمام تعلیمی ملازمین اور ایس ایس کے، ایم ایس کے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ یکم اگست سے کیا جائے گا۔ لیکن اب دیکھا گیا کہ یہ تنخواہ اضافہ اکتوبر سے نافذ ہوگا۔ حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکی، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو آئندہ بجٹ میں ان ملازمین کے لیے باعزت تنخواہ کا ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے ضرور اقدامات کرنے چاہئیں۔ شکشاپریمی ایکتا منچ کے جنرل سکریٹری کِنکر ادھیکاری نے بھی آئندہ پیرا ٹیچرز کو کم از کم تنخواہ کے مقررہ ڈھانچے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کنٹریکٹ پر کام کرنے والے تعلیمی ملازمین کی تنخواہوں میں ایک جھٹکے میں 5 سے 10 ہزار روپے کا اضافہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments