وزراءاور افسران کے لیے 151 نئی گاڑیاں آ رہی ہیں
نئی حکومت۔ محکموں کے وزیر اور سکریٹری بھی نئے ہیں۔ اور اب انہی کے لیے نئی گاڑیاں لائی جا رہی ہیں۔ ریاستی حکومت اپنے مختلف محکموں کے لیے 151 گاڑیاں خرید رہی ہے۔ پہلے ہی ٹینڈر جاری ہو چکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ کے اندر یہ گاڑیاں آ جائیں گی۔ معلوم ہوا ہے کہ مہندرا اسکارپیو اور ٹویوٹا کی گاڑیاں خریدی جائیں گی۔
نابنہ ذرائع کے مطابق، ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں تقریباً دس سال بعد خریدی جا رہی ہیں۔ بنیادی طور پر مختلف سرکاری محکموں کے افسران کو لانے لے جانے کے لیے کرائے کی گاڑیاں استعمال کی جاتی تھیں۔ لیکن گزشتہ چند برسوں سے تقریباً دو سو گاڑیوں کی حالت انتہائی خستہ ہو چکی تھی۔ نشستیں ٹوٹی ہوئی تھیں، اے سی کام نہیں کرتا تھا، حتیٰ کہ گاڑیوں کے ایندھن کا خرچ بھی بڑھ رہا تھا۔ ہر لحاظ سے یہ گاڑیاں تقریباً ناقابلِ استعمال ہو چکی تھیں۔ نتیجتاً سرکاری افسران کو لانے لے جانے کے لیے گاڑیوں کی کمی محسوس ہونے لگی تھی۔
ابتدا میں الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں گاڑیوں کی رفتار، قیمت اور طویل فاصلے کے سفر کے دوران چارج ختم ہونے کے ممکنہ مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانب جو مالکان سرکاری پ±ول کار سروس کے لیے گاڑیاں کرائے پر دیتے ہیں، وہ بھی طویل عرصے سے کرایہ بڑھانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرایہ نہیں بڑھایا گیا تو وہ گاڑیاں سروس سے ہٹا لیں گے۔ تمام پہلوو¿ں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نابنہ کے ایک افسر کے مطابق، بہت سے نئے وزراء پرانی وزارتی گاڑیوں کو استعمال کرنے کے لیے زیادہ رضامند نہیں تھے۔ تاہم راتوں رات گاڑیاں نہیں خریدی جا سکتیں۔ اس کے لیے ایک مقررہ طریقہ کار ہوتا ہے۔ فیصلہ ہونے کے بعد ہی نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا۔ محکمہ خزانہ سے بھی جلد منظوری مل گئی۔ گاڑیوں کا ٹھیکہ بھی طے ہو چکا ہے۔
گاڑیاں آنے کے بعد نابنہ میں مکمل ڈیٹا بیس محفوظ کیا جائے گا کہ کون سی گاڑی کس افسر کے نام پر جاری کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ معلومات نیشنل ہائی وے اتھارٹی، کولکاتا میونسپل کارپوریشن اور کولکاتا پولیس کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی۔
حکومت تبدیل ہوتے ہی مغربی بنگال کے اعلیٰ افسران (آئی اے ایس) کی سرکاری گاڑیوں کے سامنے ڈیش بورڈ سے ’ب‘ لکھا ہوا جھنڈا ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کی جگہ نیلے رنگ کے جھنڈے پر اشوک چکر کا لوگو لگا دیا گیا۔
نابنہ کی ہدایت کے مطابق ریاستی حکومت کے آئی اے ایس افسران کی سرکاری گاڑیوں پر خصوصی قسم کا جھنڈا استعمال کرنا ہوگا۔ سرکاری کام کے سلسلے میں مختلف قومی اور بین الاقوامی سطح کی میٹنگوں میں شرکت کے دوران افسران کی شناخت اور عہدے کی حیثیت واضح کرنے کے مقصد سے یہ نظام نافذ کیا گیا ہے۔ افسر کے عہدے کے مطابق جھنڈے کے ڈیزائن اور سائز میں بھی فرق رکھا گیا ہے۔
وزراءاور افسران کے لیے 151 نئی گاڑیاں آ رہی ہیں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments