Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

کولمبیا نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی دعویٰ تسلیم کر لیا

کولمبیا نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی دعویٰ تسلیم کر لیا

کولمبیا کی نئی مقرر کردہ اور دائیں بازو کی سخت گیر حکومت نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا دعویٰ تسلیم کر لیا۔ 1967 میں اسرائیل نے شام سے چھین کر ان پر قبضہ کر لیا تھا۔

قبل ازیں امریکہ واحد ملک تھا جس نے 1981 میں اسرائیل کا اس علاقے سے الحاق تسلیم کیا تھا۔

کولمبیا کے صدر ایبلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے جمعے کے روز اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے ایک زوردار انتخابی مہم کے دوران اپنے ملک میں مسلح گروہوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل سے گہرے تعلقات کا عزم کیا تھا۔

ان کی وزارتِ خارجہ نے اسی دن اسرائیل کا دعویٰ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا تھا جب مغربی کولمبیا میں ایک شدید زلزلہ آیا۔ اس میں کم از کم 111 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

"کولمبیا کی حکومت اس سرزمین پر اسرائیلی خودمختاری نیز اس ریاست کا یہ حق تسلیم کرتی ہے کہ وہ بیرونی خطرات سے خود کو محفوظ رکھے،" ایکس پر ایک بیان میں کہا گیا۔

نیز کہا، "کولمبیا تسلیم کرتا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا کنٹرول اور خودمختاری برقرار رکھنا اس کے قومی دفاع کا ایک لازمی جزو ہے۔"

اقوامِ متحدہ کا مؤقف ہے کہ سطح مرتفع گولان شام کا علاقہ ہے جو اسرائیل کے فوجی قبضے میں ہے۔

دعویٰ تسلیم کرنے پر اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے اپنے "اچھے دوست" ڈی لا ایسپریلا کا شکریہ ادا کیا۔

"ہمارے تاریخی وطن میں یہودی لوگوں کے مسلسل وجود کی ضمانت کے لیے دفاعی سرحدیں ضروری ہیں،" ایسپریلا کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کرنے والے سار نے ایکس پر پوسٹ کیا۔

گولان کی پہاڑیاں شام کا حصہ ہیں، اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے گذشتہ ماہ اسرائیل کے قبضے کو "مکمل طور پر ناقابلِ قبول" قرار دیا تھا۔

ڈی لا ایسپریلا کے بائیں بازو کے پیشرو صدر گسٹاو پیٹرو نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت پر شدید تنقید کی اور اس سے سفارتی تعلقات منقطع اور کولمبیا میں اسرائیلی ہتھیاروں کی درآمد روک دی تھی۔

امریکی حمایت یافتہ کروڑ پتی صدر ڈی لا ایسپریلا نے اب اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

گذشتہ مہینے انہوں نے یروشلم میں کولمبیا کا سفارت خانہ کھولنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جسے اسرائیل اپنا دارالحکومت سمجھتا ہے اور اس میں مقبوضہ فلسطین کا کچھ حصہ بھی شامل ہے۔ تاہم اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور زیادہ تر ممالک تل ابیب سے اپنے سفارتی مشن چلاتے ہیں۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn