Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں وارڈوں کی حدبندی کے معاملے میں سی پی ایم کو جھٹکا! ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی

Admin
By Admin
Nov 03, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں وارڈوں کی حدبندی کے معاملے میں سی پی ایم کو جھٹکا! ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی
کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں وارڈوں کی حدبندی کے معاملے میں سی پی ایم کو جھٹکا! ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی — November 03, 2026
کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں وارڈوں کی حدبندی کے معاملے میں سی پی ایم کو جھٹکا! ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی
کولکاتا سمیت مغربی بنگال کی کئی میونسپل کارپوریشنوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس سے پہلے کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں وارڈوں کی ازسرِنو حدبندی اور خواتین کے لیے ریزرویشن میں قواعد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے سی پی ایم نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس معاملے میں بائیں بازو کی جماعت کو عدالتی کارروائی میں جھٹکا لگا ہے۔ کولکاتا ہائی کورٹ نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی۔
اس معاملے میں سنگل بنچ کی جانب سے کوئی حکم جاری نہ کیے جانے کے بعد سی پی ایم نے ڈویڑن بنچ سے رجوع کیا تھا۔ جسٹس ارندم مکھرجی اور جسٹس ارجن رائے مکھرجی کی ڈویڑن بنچ میں فوری سماعت کی درخواست دائر کی گئی، لیکن ہائی کورٹ نے اس درخواست پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ اس طرح میونسپل انتخابات کے اعلان کی راہ میں فی الحال کوئی عدالتی رکاوٹ نہیں رہی۔

کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں وارڈوں کی نئی حدبندی کے بعد وارڈوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ پہلے یہاں 144 وارڈ تھے، جو اب بڑھ کر 209 ہو گئے ہیں۔ اس دوران انتخابات کی تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ اسی اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے سی پی ایم نے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ دیپو داس نے یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔

عدالت میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وارڈوں کی نئی حدبندی میں سرحدوں کے تعین پر کئی سنگین اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ موقع پر جا کر معائنہ کرنے اور شہریوں کی رائے جاننے کے لیے علاقوں میں عوامی سماعت کرانے کی تجویز بھی دی گئی تھی، لیکن اسے اہمیت نہیں دی گئی۔

درخواست گزار کا خاص طور پر کہنا تھا کہ وارڈوں کی آبادی، جغرافیائی صورتحال اور دیگر اہم پہلوو¿ں کا مناسب طور پر جائزہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کسی مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت جسٹس ہیرنمئے بھٹاچاریہ کی سنگل بنچ میں ہوئی تھی۔ تاہم عدالت نے اس معاملے میں کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا۔ البتہ تمام فریقین کو 29 اکتوبر تک حلف نامے جمع کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

اسی دوران پیر کے روز بائیں بازو کے رہنما نے اس معاملے میں ڈویڑن بنچ سے رجوع کیا۔ ان کے وکیل نے عدالت سے عبوری حکم جاری کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر اس دوران انتخابات کا اعلان ہو گیا تو ان کی درخواست کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔

تاہم ڈویڑن بنچ نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا۔ جسٹس ارندم مکھرجی کی بنچ نے مشاہدہ کیا کہ چونکہ سنگل بنچ پہلے ہی مقدمہ قبول کر چکی ہے، اس لیے انتخابات کا اعلان ہونے کی صورت میں بھی درخواست گزار ہر مرحلے پر عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عدالت نے پوجا کی تعطیلات کے دوران اس مقدمے کی فوری سماعت کو ضروری نہیں سمجھا۔

کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں وارڈوں کی حدبندی کے معاملے میں سی پی ایم کو جھٹکا! ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn