ایس آئی آر والی ریاستوں میں ووٹر لسٹوں کی باقاعدہ نظرثانی شروع، موجودہ فہرستوں کی نئے سرے سے جانچ ہوگی
الیکشن کمیشن نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ووٹر لسٹوں کی سالانہ خصوصی خلاصہ نظرثانی (ایس ایس آر)، جو گزشتہ سال ایس آئی آر شروع ہونے کے بعد نہیں کی گئی تھی، جمعہ سے دوبارہ شروع ہوگی۔
اپنے سرکلر میں انتخابی کمیشن نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ووٹر لسٹوں کی قابلِ مطالعہ پی ڈی ایف کاپیاں فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ گزشتہ سال اپنی ”ووٹ چوری“ مہم شروع کرنے کے بعد سے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی انتخابی کمیشن پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ جان بوجھ کر ووٹر لسٹوں کی تصویری پی ڈی ایف فراہم کرتا ہے، تاکہ محققین اور سیاسی جماعتوں کے لیے آبادیاتی اعتبار سے یکساں اندراجات تلاش کرنا مشکل ہو جائے۔ ایسے اندراجات فرضی ووٹروں کے بھی ہو سکتے ہیں۔
کانگریس نے حال ہی میں انتخابی کمیشن پر الزام لگایا تھا کہ اس نے نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی، کو ووٹر کے طور پر رجسٹر ہونے سے روکنے کے لیے ایس ایس آر کو روک رکھا ہے، حالانکہ 18 سال سے زیادہ عمر کے شہریوں کے ووٹر کے طور پر اندراج کے لیے فارم 6 مسلسل دستیاب رہا ہے۔ایس آئی آر کے برعکس، ایس ایس آر میں ووٹر لسٹ کو نئے سرے سے تیار نہیں کیا جاتا، بلکہ موجودہ فہرستوں میں درج اندراجات کی جانچ کی جاتی ہے۔ اس لیے ووٹروں کو سابقہ خصوصی نظرثانی کے ریکارڈ سے خود کو ”میپ“ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ طریقہ موجودہ ایس آئی آر کے دوران متعارف کرایا گیا ہے۔ ایس ایس آر ضروری ہے، کیونکہ اس کے ذریعے انتخابات کے اعلان کے وقت تازہ ترین ووٹر لسٹ دستیاب ہوتی ہے۔
جمعرات کے سرکلر میں ان 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس ایس آر کا اعلان کیا گیا، جہاں ایس آئی آر مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ آسام میں بھی یہ عمل ہوگا، جہاں ایس آئی آر زیرِ التوا ہونے کے باعث ”خصوصی نظرثانی“ کی گئی تھی۔ آسام میں یہ عمل نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کو اپ ڈیٹ کرنے کا طویل عرصے سے زیرِ التوا کام مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
انتخابی کمیشن نے اپنے سرکلر میں کہا:”یکم جنوری 2027 کو اہلیتی تاریخ مانتے ہوئے اہل ووٹروں کے اندراج میں سہولت فراہم کرنے اور یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر 2027 کی تین آئندہ اہلیتی تاریخوں کے لیے پیشگی درخواستیں حاصل کرنے کے مقصد سے کمیشن ہدایت دیتا ہے کہ موجودہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی خلاصہ نظرثانی کی جائے۔ اس کے لیے یکم جنوری 2027 کو اہلیتی تاریخ تصور کیا جائے گا۔
”جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر جاری ہے یا ابھی مکمل ہوا ہے، وہاں ایس ایس آر کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔
”تین ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، یعنی ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ میں، جہاں اب تک ایس آئی آر شروع نہیں ہوا ہے، وہاں موسم کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا شیڈول مناسب وقت پر جاری کیا جائے گا۔“ابتدائی ووٹر لسٹیں 12 نومبر کو شائع کی جائیں گی۔ اس کے بعد دعوے اور اعتراضات درج کرانے کا عمل شروع ہوگا، جو 12 دسمبر تک جاری رہے گا۔ حتمی ووٹر لسٹیں 4 جنوری کو شائع کی جائیں گی۔ ماضی میں ایس ایس آر کا عمل اگست میں ہی شروع ہو جاتا تھا۔مغربی بنگال میں بھی ایس ایس آر ہوگا، حالانکہ ایس آئی آر کے دوران جانچ کے بعد ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ووٹروں کے ایک مخصوص زمرے کے لیے ریاست کی منفرد صورتِ حال کے پیش نظر کوئی خصوصی انتظامات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت نے اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ سے بات کرتے ہوئے کہا:”اب یہ بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) جیسے انتخابی اہلکاروں پر منحصر ہوگا کہ وہ جانچ کریں کہ ایس آئی آر کے دوران خارج کیا گیا شخص اب اہل ہے یا نہیں۔ وہ ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں اور یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ ایس آئی آر کے دوران اس شخص کا نام کیوں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
”اگر بی ایل او یا ای آر او کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا نام ایس آئی آر کے دوران اس لیے خارج کیا گیا تھا کہ وہ میپنگ نہیں کر سکا یا کوئی دستاویز جمع نہیں کرائی، تو تمام دستاویزات کے بغیر اس کی درخواست قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ان کے اختیار میں ہوگا۔ تاہم، انہیں اپنے فیصلے کی وجہ بتانی ہوگی۔“
”ابتدائی اور حتمی ووٹر لسٹوں کی اشاعت کے فوراً بعد ای آر او ہر تسلیم شدہ سیاسی جماعت کو ہر الگ پولنگ اسٹیشن کی ووٹر لسٹ کی دو کاپیاں مفت فراہم کرے گا، جن میں ایک کاغذی اور دوسری قابلِ مطالعہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں ہوگی۔“اب تک انتخابی کمیشن ووٹر لسٹوں سے متعلق اپنے ضابطے پر عمل کرتا رہا ہے، جس کے تحت ابتدائی ووٹر لسٹ کو ”ٹیکسٹ موڈ“ میں، یعنی تصاویر کے بغیر، اور ”امیج پی ڈی ایف فارمیٹ“ میں پیش کرنا لازمی تھا۔ 2018 میں کمل ناتھ بنام الیکشن کمیشن مقدمے میں سپریم کورٹ نے اس ضابطے کو برقرار رکھا تھا اور کہا تھا کہ انتخابی کمیشن کے لیے ”سرچ ایبل پی ڈی ایف“ فراہم کرنا ضروری نہیں ہے۔”ای آر او ووٹر لسٹ میں اضافے، ناموں کے اخراج اور ترمیم سے متعلق ضمنی فہرستیں تیار کرے گا اور انہیں مستقبل میں حوالہ دینے کے لیے محفوظ رکھے گا۔ ان کی ایک کاپی تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو بھی فراہم کی جائے گی۔“اس سے پہلے ابتدائی فہرست کے مرحلے میں یہ ضمنی فہرستیں سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر نہیں کی جاتی تھیں۔دیگر تبدیلیوں میں سیاسی جماعتوں کو دعوو¿ں اور اعتراضات کی ہفتہ وار فہرستیں فراہم کرنا اور ووٹر لسٹوں کی سافٹ کاپیاں پین ڈرائیو میں دینا شامل ہے۔ اس سے پہلے سی ڈی یا ڈی وی ڈی فراہم کرنے کی اجازت تھی۔گزشتہ ہفتے انتخابی کمیشن نے فارم 7 کے تحت ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی کی جانب سے مبینہ طور پر ان درخواستوں کا غلط استعمال مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ایس آئی آر والی ریاستوں میں ووٹر لسٹوں کی باقاعدہ نظرثانی شروع، موجودہ فہرستوں کی نئے سرے سے جانچ ہوگی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments