نئی دہلی،یکم اکتوبر : مغربی بنگال کی سابق وزیرِ اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹروں کے حقوق چھیننے اور ووٹر لسٹ کے خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شہریوں کے حقوق 'غائب' کر دیے ہیں۔
انہوں نے یہاں ابھیشیک بنرجی کی سرکاری رہائش گاہ پر جمعرات کے روز منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ مسٹر گیانیش کمار کو 'وینش کمار' کہتی ہیں، کیونکہ ان کے مطابق انہوں نے لوگوں کا ووٹ دینے کا حق 'وینش' (غائب) کر دیا ہے ۔ محترمہ بنرجی نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ہٹائے گئے اور اس سے انتخابی عمل متاثر ہوا۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال میں انتخابات اپریل میں ہونے تھے ، جبکہ ایس آئی آر کا عمل ستمبر میں شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس 100 متاثرین کو لے کر عدالت بھی گئی، لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی۔انہوں نے ایس آئی آر سے جڑے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترنمول 2021 میں کولکاتا اسمبلی حلقے میں تقریباً 4.55 لاکھ ووٹوں سے جیتی تھی۔ اس سیٹ سے ایس آئی آر میں تقریباً 6.97 لاکھ نام ہٹائے گئے ۔ ندیہ میں ترنمول کی جیت کا فرق 20,903 ووٹ تھا، جبکہ ان کے مطابق ایس آئی آر میں 4,87,565 نام ہٹائے گئے ۔ شمالی 24 پرگنہ میں جیت کا فرق 9,13,943 ووٹ تھا، جبکہ ایس آئی آر میں 12,60,096 نام ہٹائے گئے ۔
ممتابنرجی نے کہا، " شمالی دناج پور میں 2021 میں ترنمول کی جیت کا فرق 2,44,744 ووٹ تھا، جبکہ ایس آئی آر میں 3,63,646 نام ہٹائے گئے ۔ پوربا بردمان میں 2021 میں ترنمول کی جیت کا فرق 2,75,905 ووٹ تھا اور 2026 میں 4,35,864 نام ہٹائے گئے ۔ پوربا مدنی پور میں ہم 2,00,464 ووٹوں سے جیتے تھے ، جبکہ ایس آئی آر میں 2,73,707 ووٹ ہٹا دیے گئے ۔"
انہوں نے کہا، "کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو ووٹر لسٹ سے کیسے غائب کیا؟ لوگوں کو ووٹر لسٹ سے کیسے محروم کیا؟ یہ اعداد و شمار ایس آئی آر کے دوران اپنائے گئے طریقے کو دکھاتے ہیں۔"ترنمول کانگریس کی سربراہ نے انتخابات کے دوران مرکزی فورسز کے کردار پر بھی الزامات عائد کیے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک انتخابی حلقے میں پارٹی کے ایجنٹوں کو مبینہ طور پر مار کر اور پیٹ کر باہر کر دیا گیا نیز اس کے بعد سی سی ٹی وی کو بلاک کر دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی تقریباً 15,000 ووٹوں سے آگے چل رہی تھی، لیکن بعد میں اس سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جیت گئی۔ انہوں نے اسے انتخابی عمل کو 'کیپچر'، 'ہائجیک' اور 'سنٹرلائز' کیے جانے کا معاملہ بتایا۔
ممتابنرجی نے ایس آئی آر کو لے کر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب 'اسپیشل انٹینسو رویژن' ہے ، لیکن انہوں نے اسے 'اسپیشل انسیٹیو فار رولنگ پارٹی' قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر مہاراشٹر، بہار اور ہریانہ سمیت دیگر مقامات پر بھی ہوا ہے ، لیکن ان کی پارٹی نے بنگال میں اس عمل کا نقطہ بہ نقطہ مطالعہ کیا ہے ۔
انہوں نے انتخابات کے بعد ای وی ایم اور وی وی پیٹ مشینوں میں آگ لگنے کے واقعے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نو منزلہ عمارت میں ان منزلوں پر آگ لگی جہاں ای وی ایم رکھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ترنمول الیکشن جیت چکی تھی اور دعویٰ کیا کہ مشینوں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح انتخابی دھاندلی کے ثبوت مٹا دیے گئے ، تاکہ عدالتی کارروائی سے بچا جا سکے ۔محترمہ بنرجی نے بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کی واٹس ایپ گروپ کی مبینہ بات چیت شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ الیکشن آبزرورز پر انتخابی عمل میں مداخلت کرنے کے لیے دبا¶ بنایا جا رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبزرورز سے چیف الیکشن آفیسر کی باتیں ماننے کے لیے کہا جا رہا تھا۔
محترمہ بنرجی بدھ کے روز یہاں انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں شامل ہوئی تھیں اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ملک بھر میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا-
اس موقع پر ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل پر سوال اٹھائے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاسی جماعتیں اور اپوزیشن گزشتہ کئی مہینوں سے جن الزامات کو اٹھا رہے تھے ، ویسے ہی الزامات اب دو دیگر الیکشن کمشنر بھی اٹھا رہے ہیں۔
مسٹر بنرجی نے کہا کہ ایک حالیہ خبر کی رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ کچھ فیصلے دیگر دو الیکشن کمشنروں کو اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ کیئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کا درجہ برابر ہے اور فیصلے فل بینچ کے ذریعے کیئے جانے چاہئیں۔
انہوں نے خصوصی طور پر ایس آئی آر میں فارم چھ سے جڑے تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ باقی دو الیکشن کمشنروں کو کچھ فیصلوں کی معلومات نہیں تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ فیصلے کس کے اشارے پر اور کسے فائدہ پہنچانے کے لیے کیئے گئے ۔
مسٹر بنرجی نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال کی 150 اسمبلی سیٹوں پر ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ناموں اور 'انڈر ایڈجوڈیکیشن' معاملوں کی تعداد متعلقہ سیٹوں کے جیت کے فرق سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان 150 سیٹوں کو گیانیش کمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو 'گفٹ' کیا اور دعویٰ کیا کہ ان سیٹوں کو گھٹانے پر بی جے پی کی سیٹوں کی تعداد 58 رہ جاتی۔
انہوں نے سادگاچھیا اسمبلی حلقے کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک وقت ترنمول تقریباً 12,000 ووٹوں سے آگے چل رہی تھی، لیکن اس کے ایجنٹوں کو مرکزی فورسز اور بی جے پی کے لوگوں نے مبینہ طور پر باہر کر دیا۔ ان کے مطابق بعد میں بی جے پی تقریباً 400 ووٹ سے سیٹ جیت گئی۔ انہوں نے گیانیش کمار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ دوپہر تین بجے سے رات نو بجے تک کی اس دن کی سی سی ٹی وی فوٹیج عام کی جائے ، تاکہ سچ سب کے سامنے آ سکے ۔
مسٹر بنرجی نے یہ بھی الزام لگایا کہ انتخابی نتائج آنے کے تقریباً ایک مہینے بعد جون کے پہلے ہفتے میں تقریباً 4,000 ای وی ایم مشینیں آگ میں تباہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے تین مہینے بعد بھی کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے اور کئی انتخابی حلقوں میں انتخابی عرضیاں التوا میں ہیں، اس لیے ان مشینوں کو محفوظ رکھا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے انتخابی عمل سے جڑے حکام کی بعد کی تعیناتیوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ چیف الیکشن آفیسر کو نئی حکومت بننے کے بعد چیف سکریٹری بنایا گیا، جبکہ ایک رول آفیسر کو وزیرِ اعلیٰ کا مشیر اور بھوانی پور کے ریٹرننگ آفیسر کو وزیرِ اعلیٰ کے دفتر میں خصوصی عہدہ دیا گیا۔
مسٹر بنرجی نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے سوال کیے جانے پر جواب کمیشن کو ہی دینا چاہیے ، نہ کہ سیاسی جماعتوں کو۔ انہوں نے کہا کہ 150 ایسی سیٹوں کے اعداد و شمار ان کے پاس ہیں جہاں ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے نام جیت کے فرق سے زیادہ ہیں اور ان معاملوں کی تفصیلی تحقیقات ہونی چاہیے ۔
نئی دہلی،یکم اکتوبر : مغربی بنگال کی سابق وزیرِ اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹروں کے حقوق چھیننے اور ووٹر لسٹ کے خصوصی تفصیلی نظر...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments