Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

ممتا بنرجی کے ’سبوج ساتھی‘ کو شوبھندو ادھیکاری نے ’سارتھی‘

Admin
By Admin
Sep 29, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

ممتا بنرجی کے ’سبوج ساتھی‘ کو شوبھندو ادھیکاری نے ’سارتھی‘
ممتا بنرجی کے ’سبوج ساتھی‘ کو شوبھندو ادھیکاری نے ’سارتھی‘ — September 29, 2026
ممتا بنرجی کے ’سبوج ساتھی‘ کو شوبھندو ادھیکاری نے ’سارتھی‘
نویں نہیں، بلکہ آئندہ تعلیمی سال سے آٹھویں جماعت میں پہنچتے ہی طلبہ کو مفت سائیکل ملے گی۔ منگل کو ہاوڑہ کے بیاترا میں ’سارتھی‘ منصوبے کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے وابستہ ہو کر جو صنعتی گروپ یا ادارہ سائیکل تیار کرنا چاہے گا، اسے مفت زمین فراہم کی جائے گی۔
2015 میں ا±س وقت کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ’سبوج ساتھی‘ منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ ابتدا میں اس منصوبے کے تحت صرف طالبات کو سائیکلیں دی جاتی تھیں۔ بعد میں طلبہ کو بھی سائیکلیں دی جانے لگیں۔ سائیکل کے لیے الگ سے درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ مختلف سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں کے طلبہ کو نویں جماعت میں پہنچنے کے بعد اس منصوبے کا فائدہ ملتا تھا۔ اب سے اسی منصوبے کا نام ’سارتھی‘ کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ شوبھندو نے نئے لوگو کے ساتھ اس منصوبے کا آغاز کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترنمول دور حکومت سے پہلے بھی طلبہ کو سائیکلیں دی جاتی تھیں، تاہم اس کا دائرہ شاید اتنا وسیع نہیں تھا۔
منگل کو وزیر اعلیٰ بیاترا علاقے میں واقع مدھوسودن پال چودھری اسکول پہنچے۔ سرکاری امداد یافتہ اس اسکول میں ’سارتھی‘ منصوبے کے تحت سائیکلیں تقسیم کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”اب آٹھویں جماعت سے ہی سائیکل دی جائے گی۔“
مختلف حیثیت سے بسوںمیں کام کرنے والے خواتین کو اعزاز سے نوازا جائے گا
بس کا اسٹیئرنگ سنبھالنے سے لے کر کنڈکٹر کی حیثیت سے مسافروں کے ٹکٹ کاٹنے کی ذمہ داری نبھانے تک، کولکاتا کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں خواتین کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان میں کوئی ڈرائیور ہے، کوئی کنڈکٹر، کوئی بس کی مالکن ہے تو کوئی دن بھر بس کے روٹ کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ ان خواتین کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اب ’بس یاترا 4.0‘ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ 2 اکتوبر کو کولکاتا بس-او-پیڈیا فاو¿نڈیشن کی جانب سے منعقد ہونے والی اس خصوصی بس یاترا میں شہر کی بس سروس کے پس پردہ کام کرنے والی خواتین کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔
’بس یاترا‘ کا آغاز 2023 میں ہوا تھا۔ بنگال کی بس سروس کی طویل تاریخ، روایت اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا اس اقدام کا بنیادی مقصد ہے۔ اس بار اسی پروگرام میں ان خواتین کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جو ڈرائیور، کنڈکٹر، بس مالکن، ٹرانسپورٹ کارکن اور افسر کی حیثیت سے روزانہ بس سروس کو رواں رکھنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
تنظیم کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس بار پروگرام کی خاص کشش روٹ نمبر 57 کی کونا-ایسپلینیڈ بس ہوگی۔ اس بس کی مالکن محترمہ ڈولی رانا ہیں۔ وہ صرف بس کی مالکن ہی نہیں بلکہ خود اسی بس میں کنڈکٹر کی ذمہ داری بھی انجام دیتی ہیں۔ ان کی کہانی کے ذریعے بس سروس میں خواتین کی شرکت کی تصویر پیش کی جائے گی۔
ڈائمنڈ ہاربر-کولکاتا، نِمتا-ہاوڑہ منی بس اور 34C نواپارا-ایسپلینیڈ جیسے روٹس پر بھی براہِ راست خواتین ڈرائیور نظر آتی ہیں۔ وہ بھی اس تقریب میں شریک ہوں گی اور انہیں اعزاز سے نوازا جائے گا۔ ان کے ساتھ ساتھ شہر کے مختلف روٹس پر خواتین کنڈکٹروں کا کردار بھی بتدریج اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اس تقریب میں ویسٹ بنگال ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی خواتین کنڈکٹروں کو بھی اعزاز دیا جائے گا۔
اس بار کی بس یاترا میں چار طرح کی بسیں شامل ہوں گی۔ ان میں ڈبلیو بی ٹی سی کی اے سی سی این جی بس شامل ہوگی۔ پہلی مرتبہ منی بس بھی اس پروگرام میں حصہ لے گی۔ روٹ نمبر 29 کی ٹِکیاآپارہ-سالٹ لیک منی بس پہلی بار ’بس یاترا‘ میں شرکت کر رہی ہے۔روٹ نمبر 57 کی کونا-ایسپلینیڈ بس بھی شامل ہوگی، جس میں بس مالکن اور کنڈکٹر ڈولی رانا کی کہانی کو نمایاں کیا جائے گا۔ روٹ نمبر 52 کی رام راجتلا-ایسپلینیڈ بس بھی دوبارہ بس یاترا میں حصہ لے رہی ہے۔ 2023 میں اس روٹ کی 100 سالہ تکمیل کا جشن منایا گیا تھا۔2 اکتوبر کو دوپہر 1 بج کر 30 منٹ پر ہاوڑہ میدان سے بس یاترا کا آغاز ہوگا۔ دوپہر کے وقت بسیں رابندر سدن پہنچیں گی۔ اس کے بعد سہ پہر 3 بج کر 40 منٹ کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوگا۔

ممتا بنرجی کے ’سبوج ساتھی‘ کو شوبھندو ادھیکاری نے ’سارتھی‘...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn