موت کے بعد بھی دوست کا ہاتھ نہیں چھوڑا! مہانندا سے 2 نابالغوں کی لاشیں برآمد
دوستی۔ چاہے رنجش ہو یا ناراضی، دوستی میں دراڑ نہیں آتی۔ منگل کے روز اس کی جیتی جاگتی مثال دیکھنے کو ملی۔ قسمت کے بے رحم کھیل میں مہانندا کے تیز بہاو¿ میں جان گنوانے کے باوجود آخری لمحے تک دونوں ہم جماعتوں نے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لاشیں برآمد ہونے کے بعد بھی دیکھا گیا کہ دونوں نابالغ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر امدادی کارکن بھی رو پڑے۔
گزشتہ اتوار کی شام سلی گوڑی کے پھول باڑی مہانندا بیراج میں نہاتے ہوئے لاپتہ ہونے والے دسویں جماعت کے دو طلبہ کی لاشیں واقعے کے تقریباً 48 گھنٹے بعد برآمد ہوئیں۔ منگل کی صبح جب دریا سے ان کی بے جان لاشیں نکال کر کنارے پر لائی گئیں تو دیکھا گیا کہ چاروں بے جان ہاتھ ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ اس المناک اور دل دہلا دینے والے منظر کو دیکھ کر گھاٹ پر موجود تجربہ کار امدادی کارکن بھی اپنے آنسو نہیں روک سکے۔ جاں بحق دونوں طلبہ کے نام پرگیا جیوتی داس اور محمد صفائل حسین نوصاد ہیں۔
پرگیا جیوتی کا گھر مالدہ کے انگلش بازار کے سنگاتلا میں ہے، جبکہ صفائل بنگلہ دیش کا رہنے والا تھا۔ دونوں پھول باڑی کے جٹیا کالی علاقے میں واقع ایک نجی انگریزی میڈیم اسکول کے ہاسٹل میں رہ کر دسویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ پولیس اور ہاسٹل ذرائع کے مطابق، اتوار کو ہاسٹل انتظامیہ اور والدین کی اجازت لے کر تین دوست—پرگیا جیوتی، صفائل اور میکھلی گنج کے رہنے والے دیبانشو ساہا—نئے کپڑے خریدنے کے لیے مٹی گارا کے ایک شاپنگ مال گئے تھے۔ خریداری کے بعد انہیں ہاسٹل واپس آنا تھا، لیکن تینوں نابالغ پھول باڑی مہانندا بیراج کے علاقے میں چلے گئے۔ برسات کی وجہ سے بیراج کے کئی لاک گیٹ کھلے ہوئے تھے، جس کے باعث دریا میں پانی کا بہاو¿ بہت زیادہ اور دھارا انتہائی خطرناک تھا۔ مقامی ماہی گیر شنکر سرکار نے انہیں خطرناک مقام پر دریا میں اترنے سے منع کیا، لیکن نابالغوں نے ان کی بات پر توجہ نہیں دی۔ دریا میں اترنے کے کچھ ہی دیر بعد تینوں تیز بہاو¿ کی زد میں آکر بہنے لگے۔
موت کے بعد بھی دوست کا ہاتھ نہیں چھوڑا! مہانندا سے 2 نابالغوں کی لاشیں برآمد...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments