فیرہاد حکیم کی فیکٹری میں انسداد بدعنوانی کمیشن کا چھاپہ، 'بدعنوانی کہاں ہوئی؟
فیرہاد حکیم کی ملکیت میں موجود دو اداروں میں انسداد بدعنوانی کمیشن کے چھاپے کو لے کر شدید سیاسی کشمکش ہے۔ جمعرات کو دوپہر میں نیو علی پور کے ٹالی گنج سرکلر روڈ پر واقع اس ادارے میں افسران نے تلاشی لی۔ یہ واقعہ کردار کشی کے سوا کچھ نہیں، یہ دعویٰ فیرہاد حکیم کا ہے۔
ترنمول کے دور میں بدعنوانی کے مختلف الزامات کی چھان بین کے لیے موجودہ ریاستی حکومت نے ایک خصوصی ادارہ جاتی انسداد بدعنوانی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ نبّن (ریاستی سیکریٹریٹ) کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کر کے یہ بات بتائی گئی ہے۔ اس کمیشن کے چیئرمین کی ذمہ داری کلکتہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج بسواجیت بوس کو دی گئی ہے۔ تعلیم، خوراک، بلدیات، ملازمتوں میں بدعنوانی اور ایمفان ریلیف سے متعلق بے ضابطگیوں کی چھان بین کرے گا یہ کمیشن۔ جمعرات کو سابق جج بسواجیت بوس کی سربراہی میں اس کمیشن کے تین رکنی وفد نے فیرہاد کی کمپنیوں پر چھاپہ مارا۔ تفتیش کاروں نے 'حکیم پولی میکرز پرائیویٹ لمیٹڈ' اور 'حکیم کیمیکلز' نامی پلاسٹک اشیاءبنانے والی دو کمپنیوں میں تلاشی لی۔ الزام ہے کہ ان کمپنیوں کی جائیدادوں کے بارے میں کافی ابہام ہے۔ افسران نے تمام تفصیلی دستاویزات کا جائزہ لیا۔ اس دوران فیرہاد حکیم یا ان کے خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔
تلاشی کے بعد اس معاملے پر فیرہاد نے غم و غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "کردار کشی کے سوا کچھ نہیں۔ ایک بے روزگار لڑکے کو نوکری نہیں ملی۔ ۳ سال بینک میں گھومنے کے بعد ۱۹۸۵ میں ایک فیکٹری کھولی۔ پھر آہستہ آہستہ فیکٹری بڑی ہوئی۔ ٹالی گنج میں یہاں پرانی رائس مل تھی۔ وہ کرائے پر دی جاتی ہیں۔ وہاں صرف میری فیکٹری نہیں، اور بھی بہت سے لوگوں کی ہیں۔ کمائی کرو اور کھاو¿، اس میں بدعنوانی کہاں؟ مالک مکان نے مجھے کرائے پر دیا ہے۔ میں کاروبار کر کے کھاتا ہوں۔ بدعنوانی کہاں؟" قدرتی طور پر اس تلاشی کو لے کر شدید سیاسی کشمکش جاری ہے۔ آنے والے دنوں میں کیا معلومات سامنے آتی ہیں، سب کی نظریں اسی طرف ہیں۔
فیرہاد حکیم کی فیکٹری میں انسداد بدعنوانی کمیشن کا چھاپہ، 'بدعنوانی کہاں ہوئی؟...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments