بلدیاتی انتخابات میں سی پی ایم کی حکمت عملی میں تبدیلی! اتحاد کے بارے میں نچلی سطح کے کارکنوں کو 'آزادی' دی علیم الدین نے
بلدیاتی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے اتحاد اور نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر سی پی ایم نیچے سے فیصلہ کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔ اوپر سے کوئی فیصلہ مسلط کیے بغیر متعلقہ ضلع کی سیاسی صورتحال، تنظیمی طاقت اور ممکنہ امیدوار کی قبولیت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم کا فیصلہ کرنے کے لیے ضلعی قیادت کو عملاً 'آزادی' دی گئی ہے۔ تاہم بائیں محاذ کے باہر کوئی جمہوری جماعت مذاکرات میں آنا چاہے تو اس امکان کا بھی جائزہ لینے کو کہا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ترنمول کانگریس اور این سی پی آئی کے ساتھ کسی بھی قسم کے انتخابی مفاہمت کا دروازہ بند رکھنے کا فیصلہ سی پی ایم کی ریاستی سکریٹریٹ نے واضح کر دیا ہے۔
نومبر کے آخر یا دسمبر کے آغاز میں ریاست کی جن بلدیات میں انتخابات ہونے کا امکان ہے، وہاں تیزی سے امیدواروں کا انتخاب اور تنظیم کو انتخابی لڑائی کے لیے تیار کرنے کا حکم سی پی ایم نے دیا ہے۔ ساتھ ہی بائیں محاذ کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر مذاکرات شروع کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ تاہم اس بار کی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نشستوں کی تقسیم کے معاملے میں ضلعی قیادت کی رائے کو انتہائی اہمیت دی جائے گی۔
پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق، ہر بلدیہ میں سیاسی حقائق یکساں نہیں ہیں۔ کہیں بائیں محاذ کی اپنی طاقت زیادہ ہے، تو کہیں بائیں محاذ کے باہر موجود کسی جمہوری قوت کے ساتھ مفاہمت کرنے سے بی جے پی یا ترنمول مخالف ووٹ کو ایک جگہ جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ریاستی سطح پر فیصلہ کیے بغیر مقامی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہی حکمت عملی ہے۔ دوسری طرف ووٹر لسٹ کو لے کر بھی سی پی ایم کو تشویش ہے۔ ٹریبونل میں موجود ناموں کو جلد از جلد ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے، اس کے لیے الیکشن کمیشن پر دباو¿ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ووٹر لسٹ میں ترمیم کے عمل میں کسی بھی اہل شہری کا نام چھوٹ جانے پر اس کے خلاف سیاسی اور تنظیمی طور پر آواز اٹھانے کے لیے بھی ضلعی قیادت کو سڑکوں پر آنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سی پی ایم صرف انتخابی تیاریوں میں ہی نہیں، بلکہ عوامی رابطہ اور تحریکوں کو بھی بلدیاتی انتخابات کی تیاری کا اہم ذریعہ بنانا چاہتی ہے۔
بلدیاتی انتخابات میں سی پی ایم کی حکمت عملی میں تبدیلی! اتحاد کے بارے میں نچلی سطح کے کارکنوں کو 'آزادی' دی علیم الدین نے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments