پریاگ راج: اتر پردیش کے باہوبلی سابق رکن اسمبلی وجے مشرا کو 46 سال پرانے قتل کیس میں بڑا جھٹکا دیتے ہوئے پریاگ راج کی ایم پی-ایم ایل اے اسپیشل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے وجے مشرا کے ساتھ ان کے تین قریبی ساتھیوں جیت نارائن، سنترام مشرا اور بلرام مشرا کو بھی مجرم قرار دیتے ہوئے سخت عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے چاروں مجرموں پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ ایم پی-ایم ایل اے اسپیشل کورٹ کے جج یوگیش کمار سوم نے بدھ کے روز سزا سناتے ہوئے کہا کہ تمام ملزمان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ عدالت نے قتل کے الزام میں تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت سخت عمر قید جبکہ دفعہ 307 کے تحت 10-10سال قید اور 50-50 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ واضح رہے کہ عدالت نے ایک روز قبل منگل کو چاروں ملزمان کو قصوروار قرار دیا تھا۔ سزا سنائے جانے کے دوران عدالت کے احاطے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ وجے مشرا کو آگرہ جیل سے سخت سیکورٹی کے درمیان پریاگ راج کچہری لایا گیا، جبکہ عدالت کے باہر بھاری پولیس فورس تعینات رہی۔ یہ معاملہ 11 فروری 1980 کا ہے، جب پریاگ راج کے کچہری احاطے میں 35 سالہ پرکاش نارائن پانڈے کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے اس وقت پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ مقتول کے بڑے بھائی شیام نارائن پانڈے نے کرنل گنج تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی تھی، جس میں وجے مشرا سمیت دیگر ملزمان پر قتل کا الزام لگایا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق پرکاش نارائن پانڈے یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور اپنے خلاف درج ایک مقدمے میں ضمانت حاصل کرنے کے لیے ضلع عدالت آئے ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ سنترام اور بلرام مشرا سے ان کی پرانی دشمنی تھی۔ الزام ہے کہ اسی دشمنی کے تحت وجے مشرا، جیت نارائن، سنترام مشرا اور بلرام مشرا نے مل کر ان پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ فائرنگ کے دوران پانچ دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس دن پرکاش نارائن پانڈے کو قتل کیا گیا، اسی دن ان کی سالگرہ بھی تھی۔ اس قتل نے اس وقت کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست ہلچل مچا دی تھی۔ بعد میں یہ معاملہ ایک ہائی پروفائل کیس بن گیا اور بتایا جاتا ہے کہ کیس کی کئی اہم دستاویزات بھی غائب کر دی گئی تھیں تاکہ ملزمان کو سزا سے بچایا جا سکے۔ وجے مشرا پہلے ہی دیگر مقدمات میں آگرہ جیل میں بند ہیں، جبکہ باقی تین ملزمان ضمانت پر باہر تھے۔ عدالت کی جانب سے قصوروار قرار دیے جانے کے بعد انہیں حراست میں لے کر جیل بھیج دیا گیا۔ سزا سنائے جانے کے وقت وجے مشرا کی اہلیہ رام للی مشرا اور ان کی بیٹی وکیل ریما مشرا بھی عدالت میں موجود تھیں۔ عدالت کی جانب سے عمر قید کا اعلان ہوتے ہی وجے مشرا کچھ لمحوں کے لیے خاموش اور حیران دکھائی دیے۔ اس مقدمے میں سرکاری وکیل سشیل کمار ویش اور اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر وریندر کمار سنگھ نے مضبوط پیروی کی، جبکہ دفاعی فریق کی جانب سے وکیل تار چندر گپتا سمیت کئی وکلا نے دلائل پیش کیے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کیس کی ابتدائی گواہی ایم پی-ایم ایل اے اسپیشل کورٹ کے سابق جج ڈاکٹر دنیش چندر شکلا کے سامنے ریکارڈ کی گئی تھی۔ قانونی ماہرین کے مطابق تقریباً نصف صدی پرانے اس مقدمے میں سزا سنایا جانا اتر پردیش کی عدالتی تاریخ کے اہم فیصلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو اس بات کی مثال بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود سنگین جرائم میں انصاف کا عمل مکمل ہو سکتا ہے۔
Source: scoial media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات