National

یو سی سی کے بعد اب اقلیتی تعلیمی ایکٹ و ہائی کورٹ میں چیلنج

یو سی سی کے بعد اب اقلیتی تعلیمی ایکٹ و ہائی کورٹ میں چیلنج

نینی تال، 21 مئی :اترکھنڈ میں یکساں سول کوڈ (یوسی سی ) کے بعد اب 'اترکھنڈ اقلیتی تعلیمی ایکٹ 2025' کو بھی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ اس معاملے کی اگلی سماعت 10 جون کو کرے گی۔یہ عرضی ادھم سنگھ نگر کی 'کے بی این ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی' کی جانب سے دائر کی گئی ہے ۔ چیف جسٹس منوج کمار گپتا اور جسٹس سبھاش اپادھیائے پر مشتمل بنچ نے آج اس کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ سال 2006 سے ادھم سنگھ نگر میں مدرسہ چلا رہے ہیں۔ریاستی حکومت نے نیا 'اقلیتی تعلیمی ایکٹ 2025' نافذ کر دیا ہے ، جس کے تحت یکم جولائی سے 'مدرسہ تعلیمی بورڈ' کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نئے ایکٹ میں انتہائی سخت دفعات شامل کی گئی ہیں، جن پر عمل درآمد کرنا مدرسوں کے لیے عملی طور پر ممکن نہیں ہے ۔ عرضی میں ان سخت دفعات کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ہائی کورٹ نے اس سے قبل حکومت سے اس معاملے پر جواب طلب کیا تھا۔ آج کی سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے جوابی حلف نامہ داخل کیا گیا۔عدالت نے تمام پہلو¶ں کا جائزہ لینے کے لیے سماعت کی اگلی تاریخ 10 جون مقرر کر دی ہے ۔مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ قانونی لڑائی ریاست میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے مستقبل اور حکومتی ضوابط کے درمیان توازن کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ اب سب کی نظریں 10 جون کو ہونے والی سماعت پر لگی ہیں کہ عدالت اس حساس معاملے میں کیا فیصلہ سناتی ہے ۔

Source: Uni News

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments