National

یو جی سی کے نئے ضوابط پر سپریم کورٹ نے لگائی روک، مرکز سے جواب طلب

یو جی سی کے نئے ضوابط پر سپریم کورٹ نے لگائی روک، مرکز سے جواب طلب

ایک اہم پیش رفت میں، سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ()یو جی سی) کے حالیہ ایکوئٹی ( ضوابط پر عبوری طور پر روک لگا دی۔ عدالت نے ان قواعد کو ’’مبہم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی وحدت اور یکجہتی کی جھلک تمام تعلیمی اداروں میں نظر آنی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے یہ معاملہ اس وقت سنا جب یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی، جنہوں نے پورے ملک میں تنازع پیدا کر دیا ہے۔ یو جی سی کے ان ضوابط کے خلاف دائر درخواستیں مرتنجے تیواری، ایڈووکیٹ وینیت جندال، اور راہل دیوان کی جانب سے داخل کی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ نئے قواعد عمومی طبقے کے خلاف امتیازی رویے کو بڑھا سکتے ہیں اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ضوابط ’’برابری‘‘ کے نام پر ایک نئی قسم کی تفریق کو جنم دے رہے ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر کسی قانون میں ذات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی بات کی جاتی ہے تو اس کی تعریف واضح، منطقی اور قابلِ فہم بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ایک دوسرے وکیل نے یونیورسٹیوں میں رَیگنگ کے بڑھتے ہوئے مسائل کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر طلبہ کو ان کی شناخت یا ذات کی بنیاد پر مختلف انداز میں دیکھا گیا تو عمومی زمرے کے طلبہ کے ساتھ الگ سلوک ہو سکتا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ یو جی سی کے قواعد صرف ذات پر مبنی معاملات پر توجہ دے رہے ہیں جبکہ کیمپس میں موجود زمینی حقیقتیں کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ سپریم کورٹ نے ضوابط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا : ’’کیا ہم ایک رجعت پسند سمت میں جا رہے ہیں؟‘‘ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی وحدت اور قومی یکجہتی ہر تعلیمی ادارے میں نمایاں ہونی چاہیے، اور ایسے قواعد سے معاشرے میں تقسیم نہیں بڑھنی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے فی الحال ان قواعد پر روک لگا دی ہے اور آئندہ سماعتوں میںیو جی سی سے وضاحت طلب کی جائے گی کہ یہ ضوابط کس حد تک آئینی اصولوں کے مطابق ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments