ترنمول اور ’جوڑا پھول‘ کس کا؟ دونوں فریقوں کا موقف سن کر چار ماہ میں فیصلہ کرے گا الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ کی ہدایت
ترنمول کانگریس کا نام اور ’جورا پھول‘ انتخابی نشان کس فریق کو ملے گا؟ الیکشن کمیشن کو چار ماہ کے اندر اس معاملے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ پیر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے یہ ہدایت دی۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ ترنمول کے انتخابی نشان سے متعلق چار ہفتوں کے اندر دونوں فریقوں کا موقف سننے کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد کمیشن کو تین ماہ کے اندر انتخابی نشان کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ یعنی آئندہ چار ماہ کے اندر کمیشن ترنمول کے نام اور انتخابی نشان کے بارے میں حتمی فیصلہ سنا دے گا۔
سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق جنوری تک ترنمول کے نام اور انتخابی نشان کے بارے میں حتمی فیصلہ ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ پوجا کے بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات یا اس دوران ہونے والے دیگر انتخابات میں ممتا ترنمول اور رت برتوں کی ’گنوتانترک ترنمول‘ کو عارضی نام اور انتخابی نشان کے ساتھ ہی مقابلہ کرنا ہوگا۔
پیر کی سماعت کے دوران ممتا ترنمول کی جانب سے وکیل کپل سبل اور کلیان بندیوپادھیائے نے انتخابی نشان سے متعلق معاملے کو جلد نمٹانے کی درخواست عدالت سے کی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی بنچ نے الیکشن کمیشن سے دریافت کیا کہ کیا دونوں فریقوں کے دلائل اور جوابی دلائل کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ممتا ترنمول کی جانب سے اس کا جواب اثبات میں دیا گیا، لیکن رت برت ترنمول کی جانب سے وکیل مکل روہتگی نے کمیشن کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کے لیے چھ ہفتوں کا وقت مانگا۔تاہم عدالت نے کہا کہ کمیشن کو چار ہفتے یعنی ایک ماہ کے اندر دونوں فریقوں کا موقف سننے کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ اس کے بعد حتمی فیصلہ لینے کے لیے کمیشن کو تین ماہ کا وقت دیا جائے گا۔
ممتا اور رت برت دھڑے کے درمیان تنازع کے دوران گزشتہ 17 ستمبر کی رات الیکشن کمیشن نے ایک عبوری حکم جاری کیا تھا۔ کمیشن نے بتایا تھا کہ فی الحال پارٹی کا نام ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ اور انتخابی نشان ’جورا پھول‘ کو فریز کیا جا رہا ہے۔ کمیشن نے کہا تھا کہ ترنمول کا ’جورا پھول‘ فی الحال اس کی تحویل میں محفوظ رہے گا۔ پارٹی کس کی ہے، اصل ترنمول کون ہے، پارٹی کے فنڈز کی ملکیت کس دھڑے کی ہے، وغیرہ جیسے معاملات کا حتمی فیصلہ ہونے کے بعد ہی اس ’صندوق‘ کا تالا کھولا جائے گا۔
6 اکتوبر کو مشرقی مدناپور کے نندی گرام اور مرشدآباد کے ریجینگر اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات سے پہلے جمعہ کو کمیشن نے دونوں دھڑوں کے عبوری نام اور انتخابی نشان طے کیے تھے۔ ممتا دھڑے کا نام ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ رکھا گیا۔ وہ 6 اکتوبر کے ضمنی انتخاب میں ’پاو¿ں میں فٹ بال لیے کھلاڑی‘ کے انتخابی نشان پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ رت برت بندیوپادھیائے کے ترنمول دھڑے کا نام ’گنوتانترک ترنمول کانگریس‘ رکھا گیا اور وہ لفافے کے نشان پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ نندی گرام میں ممتا ترنمول کا امیدوار نہ ہونے کی وجہ سے اس نے کانگریس کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انتخابی نشان اور پارٹی کا نام ’فریز‘ کیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن کے عبوری حکم کے خلاف ترنمول کی سربراہ ممتا بنرجی سپریم کورٹ پہنچیں۔ متعلقہ مقدمے میں اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رت برت بندیوپادھیائے کو بھی فریق بنایا گیا۔ ممتا کی جانب سے وکیل کپل سبل نے جلد سماعت کی درخواست کی۔ اس کے بعد گزشتہ جمعرات کو اس مقدمے کی پہلی سماعت ہوئی۔
اس سماعت میں چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے الیکشن کمیشن سے کہا، ”ایسی مناسب مدت بتائیں جس کے اندر دونوں فریقوں کو اپنے ثبوت اور موقف پیش کرنے کا منصفانہ موقع مل سکے، اور معاملہ غیر ضروری طور پر طویل بھی نہ ہو۔“
ساتھ ہی عدالتِ عظمیٰ نے کہا، ”ثبوت اور دونوں فریقوں کے موقف کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس بھی کافی وقت ہونا چاہیے۔“ یعنی ایک عملی اور حقیقت پسندانہ مدت ضروری ہے۔
پیر کو الیکشن کمیشن نے اپنا موقف پیش کیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ترنمول کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق فیصلہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن کے لیے باقاعدہ مدت مقرر کر دی۔
ترنمول اور ’جوڑا پھول‘ کس کا؟ دونوں فریقوں کا موقف سن کر چار ماہ میں فیصلہ کرے گا الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ کی ہدایت...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments