جن ووٹروں کا کام ڈیلیٹ ہوگیا ہے وہ فارم 6بھر کر اپنا نام اٹھا سکتے ہیں: الیکشن کمیشن ، اسے جھوٹا نہیں سمجھا جائے گا
’اسے جھوٹا اعلان نہیں سمجھا جائے گا“! خارج شدہ ووٹروں کے فارم 6 بھرنے پر تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کرکے وضاحت کی
الیکشن کمیشن کی نئی ہدایات کے مطابق، اگر کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ کے مسودے میں موجود نہیں ہے تو وہ فارم 6 جمع کرا کر حتمی ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔ اس معاملے میں یہ بات رکاوٹ نہیں بنے گی کہ متعلقہ شخص کا نام پہلے ووٹر لسٹ میں موجود تھا یا نہیں۔
ووٹر لسٹ میں نئے ناموں کے اندراج کو لے کر جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میدان میں آ گیا ہے۔ خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران فارم 6 کے استعمال سے متعلق اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے کمیشن نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص پہلے ووٹر لسٹ میں شامل تھا، لیکن اب پہلی مرتبہ ووٹر بننے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے غلط نہیں سمجھا جائے گا۔ نام درج کرانے کے فارم میں دیے گئے حلف نامے کو لے کر خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت ایسے افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
پہلے ووٹر لسٹ میں نام موجود تھا، لیکن ایس آئی آر کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ مسودہ ووٹر لسٹ میں اس کا نام غائب پایا گیا۔ کمیشن کی ہدایت کے مطابق ایسے ووٹر فارم 6 پ±ر کرکے دوبارہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
تاہم جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں، ان میں سے بہت سے افراد کو خدشہ ہے کہ اب ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے فارم 6 جمع کرنے پر انہیں تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئے ووٹر کے طور پر نام درج کرانے کے لیے فارم 6 استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے میں لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ جس شخص کا نام پہلے ہی ووٹر لسٹ میں موجود تھا، وہ نئے ووٹر کی حیثیت سے درخواست کیسے دے سکتا ہے؟
کئی لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ پرانے ووٹروں کا فارم 6 بھر کر خود کو نیا ووٹر ظاہر کرنا کیا ”جھوٹا اعلان“ نہیں ہوگا؟ کمیشن نے ان تمام خدشات کو دور کر دیا ہے۔ کمیشن کے اس بظاہر دوہرے موقف پر اپوزیشن جماعتوں نے بھی سوالات اٹھائے تھے۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اس معاملے میں پائی جانے والی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق، ایسے حالات میں ووٹروں کی جانب سے کیا گیا اعلان جھوٹا تصور نہیں کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا اس معاملے میں خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس کے ساتھ ہی کمیشن نے ایک شرط بھی عائد کی ہے۔ اس نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ شخص کا نام کسی دوسری لوک سبھا یا اسمبلی حلقے کی ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہونا چاہیے۔
منگل کے روز الیکشن کمیشن نے تمام ریاستوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز (سی ای او) کے دفاتر کو خط بھیج کر اس معاملے کو واضح کرنے کی ہدایت دی۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹروں کی سہولت کے لیے سی ای اوز کو مقامی زبانوں میں اس بارے میں تشہیر کرنی ہوگی۔
ایس آئی آر کے دوران موجودہ فارم 6 میں شامل اعلانیہ عبارت کو لے کر تنازع پیدا ہوا ہے۔ اس میں درخواست دہندگان کو یہ اعلان کرنا ہوتا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کرانے کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔ عام طور پر پہلی مرتبہ ووٹر کے طور پر نام درج کرانے کے لیے فارم 6 استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ ایس آئی آر کے دوران جن ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو گئے ہیں، وہ بھی دوبارہ اپنا نام شامل کرانے کے لیے اسی فارم کو پ±ر کریں۔ تنازع کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔
پرانے ووٹر لسٹ میں نام موجود ہونے کے باوجود نئی فہرست سے نام خارج ہونے والے افراد فارم 6 جمع کرانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ خود کو پہلی مرتبہ ووٹر قرار دینا غلط معلومات فراہم کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔
سال 1950 کے عوامی نمائندگی کے قانون کی دفعہ 31 کے مطابق، ووٹر لسٹ سے متعلق کسی معاملے میں جان بوجھ کر غلط یا جھوٹا اعلان کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔ اس کے تحت ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ نے بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ مہاراشٹر کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ نے زبانی طور پر یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے والے افراد میں سے کوئی فارم 6 جمع کراتا ہے تو صرف اسی بنیاد پر اس کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔اب الیکشن کمیشن نے بھی نوٹیفکیشن جاری کرکے اسی بات کی باضابطہ وضاحت کر دی ہے۔
’اسے جھوٹا اعلان نہیں سمجھا جائے گا“! خارج شدہ ووٹروں کے فارم 6 بھرنے پر تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کرکے وضاحت کی...
Source: Admin