4 مئی کے بعد سے بنگال میں اقلیتی فرقے کے لوگ سب سے زیادہ نشانے پر آگئے: سول سوسائٹی کو تشویش
سول سوسائٹی کے ممتاز ارکان، صحافیوں، سابق بیوروکریٹس اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ایک گروپ نے منگل کے روز اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ 4 مئی سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران مغربی بنگال آئین کی جانب سے شہریوں کو دیے گئے حقوق کے تحفظ کے معاملے میں کس حد تک پیچھے چلا گیا ہے۔
ریاست میں بی جے پی حکومت کے ان چھ ماہ کے دوران عیسائی اقلیتوں پر ہونے والے 48 حملوں کی مذمت کرتے ہوئے، ایس آئی آر، بنگلہ دیشی ہونے کے شبہ میں بنگالی بولنے والے ہندوستانی شہریوں کی حراست اور ملک بدری سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ کولکاتا کے پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ان مسائل کو اٹھایا گیا۔
راجیہ سبھا کے سابق رکن اور پرسار بھارتی کے سابق سربراہ جواہر سرکار نے ریاست کی عیسائی اقلیت کے خلاف ہدف بنا کر کیے جانے والے تشدد کے معاملے میں سرکاری بے حسی کی تفصیلات بیان کیں۔
انہوں نے کہا، ”عیسائیوں پر ظلم اس سطح پر ہو رہا ہے، خاص طور پر سب سے زیادہ بے بس اور پسماندہ لوگوں کے ساتھ، کیونکہ ظلم کرنے والوں کو صرف ایک فکر ہے کہ یہ معاملہ بین الاقوامی خبر نہ بن جائے۔ وہ ان چھوٹی جگہوں پر جاتے ہیں جہاں گاو¿ں کی جھونپڑیوں میں دعائیہ اجتماعات ہوتے ہیں اور لوگوں کو مارتے پیٹتے ہیں۔ بنگال میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔“
سرکار نے مزید کہا، ”یہ دراصل نئے غنڈے ہیں۔ راتوں رات ہر علاقے میں بی جے پی کے حامی پیدا ہو گئے ہیں۔ وہ یہ کام پارٹی کے بینر تلے بھی نہیں کرتے، بلکہ وشو ہندو پریشد اور ہندو جاگرن منچ کے نام پر کرتے ہیں۔“
کاروانِ محبت، صابر انسٹی ٹیوٹ اور عامرا کے زیر اہتمام منعقدہ یہ پریس کانفرنس پیر کے روز ہونے والی ایک طویل عوامی سماعت کے بعد منعقد کی گئی۔ اس سماعت میں متاثرین کے بیانات، نچلی سطح پر کام کرنے والے قانونی کارکنوں اور حقائق کی جانچ کرنے والی ٹیموں نے شمالی اور جنوبی 24 پرگنہ، ہوگلی، ہاوڑہ اور مشرقی و مغربی مدناپور سمیت مختلف اضلاع میں دھمکیوں اور ہراسانی کے واقعات کے شواہد پیش کیے تھے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے بورڈ کے چیئرمین اور صحافی آکار پٹیل نے ریاست میں ادارہ جاتی نظام کے زوال پر سخت تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا، ”مجھے نہیں لگتا کہ ہم ایک شفاف اور منصفانہ صورتحال میں ہیں۔ میرے خیال میں بنگال میں جو کچھ ہوا ہے، اسے منصفانہ انتخابات قرار نہیں دیا جا سکتا۔“
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے تمام ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنا ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”جس ریاست کی ایک چوتھائی آبادی اقلیتوں پر مشتمل ہو، وہ ان اقلیتوں کو نقصان پہنچا کر خود کو نقصان سے نہیں بچا سکتی۔“مصنف اور سماجی کارکن ہرش مندر نے انتظامی سطح پر ووٹر لسٹ کی نظرثانی کی کارروائی کو ریاستی سرپرستی میں لوگوں کو محروم کرنے کے وسیع تر عمل کا حصہ قرار دیا۔انہوں نے کہا، ”جو کچھ ہو رہا ہے، وہ دراصل ایس آئی آر کے ذریعے این آر سی کو انتہائی سخت شکل میں نافذ کرنے جیسا ہے۔ یہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر خارج کرنے اور ان کی چھان بین کا عمل ہے۔“
جواہر سرکار نے خودکار الگورتھم اور ’لاجیکل ڈسکریپنسی‘ (منطقی تضاد) جیسی غیر واضح درجہ بندیوں کی بنیاد پر لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کرنے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے دراندازی کے سرکاری دعووں اور حقیقی اعداد و شمار کے درمیان واضح فرق کی جانب بھی توجہ دلائی۔سرکار نے کہا، ”وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے 7 اگست کو کہا تھا کہ وہ ڈیڑھ کروڑ بنگلہ دیشی دراندازوں کو باہر نکال دیں گے۔ انہوں نے ڈیڑھ کروڑ دراندازوں کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اب تک 1200 بھی نہیں ملے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار 13 کروڑ ہندوستانیوں کے نام حذف کر رہے ہیں، ہے نا؟ اور گیانیش کو حقیقت میں کتنے درانداز ملے؟ عدلیہ کے سامنے الیکشن کمیشن کے سرکاری دعوے کے مطابق یہ تعداد 1600 سے زیادہ نہیں ہے، جن میں سے زیادہ تر نیپالی ہیں۔“صحافی اور سماجی و سیاسی کارکن جان دیال نے کمزور طبقات کے خلاف قانونی نظام کے مبینہ غلط استعمال کی جانب توجہ دلائی۔انہوں نے کہا، ”آئین ان لوگوں کے متاثرین کی حفاظت نہیں کرتا جو خود آئین پر یقین نہیں رکھتے۔“
عیسائی اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ”بنگال میں عیسائیوں کے خلاف اچانک تشدد کی لہر سماجی کارکنوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ عوامی ٹریبونل نے کھلی سماعت میں متاثرین کے بیانات سنے اور ان کے ایمان کی مضبوطی، ان کی ہمت اور مشکلات کے باوجود غیر مو¿ثر سمجھوتے کے بجائے انصاف حاصل کرنے کے عزم کو دیکھ کر متاثر ہوا۔“سماجی اور ماحولیاتی کارکن ودیا ڈنکر نے سخت صحافتی نگرانی اور عوامی بیداری کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ”عوامی ٹریبونل میں شرکت کرنا ایسا تھا جیسے بنگال کے ایک ایسے تاریک پہلو سے اچانک واقف ہونا جس کے بارے میں پہلے علم نہیں تھا۔ بار بار ہونے والے، ہدف بنا کر کیے جانے والے اور منظم حملوں کی کہانیاں سننا انتہائی حیران کن تھا۔“انہوں نے مزید کہا، ”جب تک میڈیا اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ان مسائل کو سماج کے سامنے نہیں لائے گا، تب تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔“سابق چیف انفارمیشن کمشنر اور قومی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ وجاہت حبیب اللہ نے کہا کہ ہندوستان کی اصل پہچان اس کا آئین ہے۔انہوں نے سوال کیا، ”ایک ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے مجھے تشویش ہے کہ کیا ہمارے ملک میں اقتدار کے لیے منتخب ہونے والے لوگ اس ہندوستان کے تصور کا دفاع کر رہے ہیں، جس کی بنیاد آئین پر ہے اور جس کے تحفظ کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی ہے؟“انہوں نے مزید کہا، ”ہم یہاں حالات کو سمجھنے، یکجہتی کا اظہار کرنے اور اس عزم کا اعادہ کرنے آئے ہیں کہ ہم عام لوگوں کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، تاکہ رابندر ناتھ ٹیگور اور سوامی وویکانند کے بنگال کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔“
4 مئی کے بعد سے بنگال میں اقلیتی فرقے کے لوگ سب سے زیادہ نشانے پر آگئے: سول سوسائٹی کو تشویش...
Source: Admin