National

اتراکھنڈ کے مدرسوں میں دیگر ریاستوں سے بچوں کو لائے جانے کی تحقیقات کا حکم

اتراکھنڈ کے مدرسوں میں دیگر ریاستوں سے بچوں کو لائے جانے کی تحقیقات کا حکم

دہرادون: اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے مدارس کی ریاست بھر میں تصدیق کا حکم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ریاست کے مدارس میں دیگر ریاستوں سے بچوں کو لائے جانے کی وائرل خبروں کے بعد وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی نے کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے دہرادون، ہریدوار، ادھم سنگھ نگر اور نینیتال کے ضلع مجسٹریٹس (ڈی ایم) کو معاملے کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے خصوصی سکریٹری پراگ مدھوکر دھکاٹے نے ڈی ایم کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ بچے ریاست میں کیسے پہنچ رہے ہیں اور کیا ان کے والدین نے اس سے اتفاق کیا ہے۔ انتظامیہ ان بچوں کو ریاست میں لانے کے ذمہ دار افراد سے بھی تفتیش کرے گی۔ دھامی نے کہا، "بچوں کی حفاظت، شفافیت اور قواعد کی تعمیل ہماری اولین ترجیحات ہیں۔ اگر کوئی بے ضابطگی پائی گئی تو سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔" ذرائع کے مطابق، تصدیقی مہم کا مقصد زمینی حقیقت کا پتہ لگانا ہے، اور ریاستی انتظامیہ کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اتراکھنڈ میں اس وقت مختلف اضلاع میں 452 رجسٹرڈ مدارس ہیں۔ ریاستی حکومت نے اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ایکٹ 2025 میں نافذ کیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت موجودہ مدرسہ بورڈ کا وجود یکم جولائی 2026 سے ختم ہو جائے گا۔ تمام مدارس کو نئے نظام کے تحت اتراکھنڈ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن سے الحاق اور اتراکھنڈ مائنارٹی ایجوکیشن اتھارٹی سے منظوری حاصل کرنی ہوگی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments