نئی دہلی: سپریم کورٹ نے یو جی سی (یونیورسٹی گرانٹس کمیشن) کے نئے مساواتی اور امتیاز مخالف ضوابط پر فوری روک لگا دی ہے اور مرکز حکومت و یو جی سی سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بادی النظر یہ ضوابط غیر واضح معلوم ہوتے ہیں اور آئین کے مساواتی اصول، بالخصوص آرٹیکل 14، کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ اس معاملے میں فی الحال 2012 کے ضوابط ہی نافذ رہیں گے، جبکہ اگلی سماعت 19 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔ یہ کارروائی ان مفاد عامہ کی عرضیوں پر ہوئی جن میں کہا گیا تھا کہ نئے ضوابط بعض طبقات کو بطورِ خاص ممکنہ متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ عمومی زمرے کے طلبہ کو اس دائرے سے باہر رکھ دیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں کے مطابق اس سے ایک ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے گویا امتیاز صرف مخصوص سماجی زمروں کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے، جو آئینی مساوات کے بنیادی تصور کے منافی ہے اور سماج میں تفریق کو بڑھا سکتا ہے۔ سماعت کے دوران عرضی گزاروں کے وکیل نے ضوابط کی ایک شق کو خاص طور پر چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امتیاز کی تعریف محدود اور غیر متوازن ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ آئین تمام شہریوں کو یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے، اس لیے امتیاز کی تعریف بھی ہمہ گیر ہونی چاہیے، نہ کہ مخصوص گروہوں تک محدود۔ وکیل کے مطابق پہلے سے موجود تعریف کے ہوتے ہوئے نئی شق شامل کرنے کی ضرورت واضح نہیں اور یہی ابہام ضوابط کے غلط استعمال کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں : یو جی سی کے نئے ضوابط پر بی جے پی میں اندرونی اختلاف جاری، بلند شہر میں 10 بوتھ صدور کا اجتماعی استعفیٰ عدالت نے اس نکتے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا نئے ضوابط واقعی مساوات کے حق کے مطابق ہیں یا نہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تعلیمی اداروں میں ایسے ضوابط بننے چاہئیں جو یکجہتی کو مضبوط کریں، نہ کہ تقسیم کو۔ سماعت کے دوران اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ غیر واضح ضوابط سے بعض افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس سے ادارہ جاتی ماحول متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو