National

ترکمان گیٹ پتھراؤ کیس میں مزید چھ افراد گرفتار، فیض الہی مسجد کے قریب انہدامی کارروائی کے دوران تشدد پر ڈی سی پی کا بیان

ترکمان گیٹ پتھراؤ کیس میں مزید چھ افراد گرفتار، فیض الہی مسجد کے قریب انہدامی کارروائی کے دوران تشدد پر ڈی سی پی کا بیان

نئی دہلی: دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں واقع فیض الہی مسجد کے قریب میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کی انہدامی کارروائی کے دوران پیش آئے پتھراؤ کے واقعے میں دہلی پولیس نے مزید چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس بات کی تصدیق ڈی سی پی (سینٹرل) ندھن والسن نے کی۔ ڈی سی پی کے مطابق گرفتار کیے گئے بیشتر افراد کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو بھڑکانے میں ملوث 10 افراد کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے، جن میں سلمان نامی شخص بھی شامل ہے۔ ڈی سی پی ندھن والسن نے بتایا کہ گزشتہ روز پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں عدالت نے ایک دن کی عدالتی تحویل میں بھیجا تھا۔ آج ان تمام ملزمان کو میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی گرفتاریاں سی سی ٹی وی فوٹیج اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہیں اور تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ ایم سی ڈی مسجد کو منہدم کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں حالات کشیدہ ہوئے اور پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا۔ تاہم ڈی سی پی نے واضح کیا کہ انہدامی کارروائی مسجد کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اطراف میں موجود غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے ایسے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی فہرست تیار کر لی ہے جن کے ذریعے ویڈیوز بنا کر لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس ان تمام افراد کا سراغ لگا رہی ہے۔ ڈی سی پی کے مطابق پولیس نے ملزمان کے زیرِ استعمال واٹس ایپ گروپس میں رسائی حاصل کر لی اور افواہوں کا توڑ کرنے کے لیے وہاں جوابی پیغامات بھیجے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی دہلی اور وسطی دہلی کے تھانہ انچارجز اور اے سی پیز نے مسلم مذہبی علما سے ملاقات کر کے صورت حال واضح کی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کسی فریق کو عدالت کے حکم پر اعتراض ہے تو اپیل کا راستہ کھلا ہے، کیونکہ عدالت کی جانب سے کسی قسم کا اسٹے آرڈر جاری نہیں کیا گیا۔ دہلی کی ایک عدالت نے ترکمان گیٹ پتھراؤ کیس میں پانچ ملزمان کی عدالتی تحویل میں 13 دن کی توسیع کر دی ہے۔ تمام ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت جمعہ کو ہوگی۔ پولیس کے مطابق اب تک 30 افراد کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج اور وائرل ویڈیوز کی مدد سے کی جا چکی ہے، جبکہ انہیں گرفتار کرنے کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ علاقے میں بھاری پولیس نفری تعینات ہے۔ ایک متعلقہ پیش رفت میں دہلی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی کو بھی تفتیش میں شامل ہونے کے لیے سمن بھیجا جائے گا۔ پولیس کے مطابق وہ تشدد سے قبل موقع پر موجود تھے اور سینئر افسران کی اپیل کے باوجود وہاں سے نہیں ہٹے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments