نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم پر عبوری روک لگا دی ہے جس میں تمل ناڈو وقف بورڈ کو کسی بھی قسم کے اختیارات استعمال کرنے اور سرکاری فرائض انجام دینے سے روک دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے ابتدائی طور پر یہ قرار دیا تھا کہ بورڈ کی تشکیل قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوئی، کیونکہ دو غیر مسلم اراکین کی تقرری سے متعلق لازمی شرط پوری نہیں کی گئی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے، جس میں جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل پنچولی بھی شامل تھے، تمل ناڈو وقف بورڈ کی جانب سے دائر خصوصی اجازت عرضی (ایس ایل پی) پر سماعت کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا اور ہائی کورٹ کے حکم کو معطل کر دیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ بادی النظر میں بورڈ کو غیر فعال قرار دینا مناسب نہیں لگتا، اس لیے اگلی سماعت تک اس فیصلے پر روک برقرار رہے گی۔ سماعت کے دوران بورڈ کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل پی ولسن نے مؤقف اختیار کیا کہ گیارہ میں سے آٹھ اراکین کی تقرری ہو چکی ہے اور صرف تین عہدے خالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض تین اراکین کی عدم تقرری کی بنیاد پر پورے بورڈ کو کام کرنے سے روک دینا غیر مناسب ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لازمی تقاضوں کے اصول کا اطلاق ضرور ہونا چاہیے، تاہم مکمل غیرفعالیت کا حکم سخت اقدام معلوم ہوتا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ بورڈ کی مکمل تشکیل سے متعلق تجویز عدالت کے سامنے پیش کرے اور واضح کرے کہ باقی تین اراکین کن زمروں سے نامزد کیے جائیں گے۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب مدراس ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی، جس میں یونائیفائیڈ وقف مینجمنٹ، ایمپاورمنٹ، ایفیشینسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1995 کی دفعہ 14 کے تحت تمل ناڈو وقف بورڈ کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ دفعہ 14(1) کی شق (ڈی) کے تحت پیشہ ورانہ تجربہ رکھنے والے دو افراد کی تقرری ضروری تھی، مگر صرف ایک شخص کو نامزد کیا گیا۔ مزید یہ کہ شق (ایف) کے تحت ریاستی بار کونسل کے رکن کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ قانون کے مطابق کل مقرر شدہ اراکین میں سے، سرکاری عہدے پر فائز ارکان کو چھوڑ کر، دو غیر مسلم ارکان کی موجودگی لازمی ہے، مگر اس شرط کی تکمیل نہیں ہوئی۔ ہائی کورٹ نے ان نکات کو اہم سمجھتے ہوئے بورڈ کو اختیارات کے استعمال سے روک دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ بورڈ کی تشکیل تقریباً مکمل ہے اور باقی عہدوں کو پر کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ سابقہ نظام کے تحت مقرر کردہ دو ارکان بدلے ہوئے قانونی فریم ورک میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں موجودہ تقاضوں کے تحت شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد تمل ناڈو وقف بورڈ کو عارضی طور پر راحت مل گئی ہے اور وہ اپنے معمول کے فرائض انجام دے سکے گا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ تفصیلی سماعت کے بعد ہی سنایا جائے گا، جس میں بورڈ کی قانونی حیثیت اور تشکیل کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو