National

تمل ناڈو میں ہوتے ہوتے ٹلی وجے کی حلف برداری! پہلے ایک، اب 2 سیٹوں پر پھنس گیا ٹی وی کے کا پیچ

تمل ناڈو میں ہوتے ہوتے ٹلی وجے کی حلف برداری! پہلے ایک، اب 2 سیٹوں پر پھنس گیا ٹی وی کے کا پیچ

تمل ناڈو کی سیاست میں ان دنوں مسلسل گھمسان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سپر اسٹار سے سیاستداں بنے وجے (تھلاپتی وجے) کے مداح ان کی تاجپوشی کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، لیکن عین موقع پر بازی پلٹ گئی۔ سنیچر کو ہونے والی حلف برداری کی تقریب فی الحال منسوخ کر دی گئی ہے۔ راج بھون کی دہلیز تک پہنچنے کے باوجود ‘تھلاپتی’ کی حکومت کا معاملہ صرف 2 سیٹوں کے عدد پر آ کر اٹک گیا ہے۔ جمعہ کو جب وجے گورنر راجیندر وشوناتھ آرلیکر سے ملاقات کے لیے پہنچے تو ہر کسی کو امید تھی کہ اب سسپنس ختم ہو جائے گا۔ وجے نے گورنر کو 116 اراکین اسمبلی کی حمایت کا خط سونپ کر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا، لیکن تمل ناڈو کی 234 رکنی اسمبلی میں اکثریت کا جادوئی ہندسہ 118 ہے۔وجے کی پارٹی ٹی وی کے نے خود 108 سیٹیں جیتی ہیں، جن میں سے دو سیٹوں پر خود وجے کامیاب ہوئے ہیں۔ حمایت کرنے والوں کی فہرست میں کانگریس، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) کے اراکین اسمبلی شامل ہیں، لیکن معاملہ IUML اور وی سی کے پر آ کر پھنس گیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کے پاس 2-2 اراکین اسمبلی ہیں اور انہوں نے اب تک اپنی حمایت کا خط جمع نہیں کرایا ہے۔ گورنر نے صاف کر دیا ہے کہ جب تک 118 اراکین اسمبلی کی تحریری حمایت نہیں ملتی، وہ حکومت بنانے کی دعوت نہیں دے سکتے۔ جیسے ہی حلف برداری منسوخ ہونے کی خبر پھیلی، چنئی کی سڑکوں پر سناٹا اور مایوسی چھا گئی۔ ٹی وی کے کے ہزاروں حامی جمعہ کی صبح گورنر ہاؤس (لوک بھون) کے سامنے جمع ہو گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو ہلکا لاٹھی چارج کرنا پڑا اور کئی حامیوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔ دوسری طرف سیاسی گلیاروں میں نئی سیاسی کھچڑی پکنے کی چہ مگوئیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر وجے اکثریت ثابت نہیں کر پاتے تو ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ تاہم، ٹی وی کے نے بھی سخت رخ اپناتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر اپوزیشن نے اس طرح حکومت بنانے کی کوشش کی تو ان کے تمام اراکین اسمبلی اجتماعی استعفیٰ دے دیں گے۔ اس سیاسی ہلچل کا اثر اب دہلی کی پارلیمنٹ تک پہنچ گیا ہے۔ کانگریس کے ساتھ اتحاد ٹوٹنے کے بعدڈی ایم کے نے لوک سبھا میں اپنے اراکین پارلیمنٹ کی نشستیں تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اب کانگریس کے ساتھ بیٹھنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments