National

تمل ناڈو کبھی بھی زبان مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گا: ایم کے اسٹالن

تمل ناڈو کبھی بھی زبان مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گا: ایم کے اسٹالن

چنئی، 4 اپریل : تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے صدر ایم کے اسٹالن نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان پر شدید حملہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمل ناڈو کسی بھی قیمت پر خود پر کوئی دوسری زبان مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی اسے قبول کرے گا۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک سخت بیان میں اسٹالن نے دھرمیندر پردھان کے ریمارکس کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو 'تھری لینگوویج پالیسی' کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور اپنی آزمودہ 'ٹو لینگوویج پالیسی' پر قائم رہے گا۔ وزیر اعلی اسٹالن نے کہا کہ وزیر تعلیم کے تبصرے ہندوستان کی کثرت پسندی، وفاقی اقدار اور ریاستوں کے احترام کی کھلی توہین ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی زبان کی مخالفت نہیں بلکہ زبان تھوپنے کے خلاف آئینی حقوق کا تحفظ ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ 'سمگر شکشا' اسکیم کے تحت تمل ناڈو کے 2,200 کروڑ روپے غیر قانونی طور پر روک لیے گئے ہیں۔ انہوں نے اسے ہندی تھوپنے سے انکار کرنے پر تمل ناڈو کو دی جانے والی 'سزا' قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رقم تمل ناڈو کے لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ ہے جسے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر اسٹالن نے اپوزیشن لیڈر ایڈاپڈی کے پلانی سوامی کو چیلنج کیا کہ وہ واضح کریں کہ آیا وہ بی جے پی کی اس پالیسی کے ساتھ ہیں یا تمل ناڈو کے عوام کے ساتھ، جو 'دہلی کے آقا¶ں' کے ذریعے ہندی تھوپنے کی کوششوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان تمل کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تمل عوام نے ہمیشہ ثقافتی مداخلت کا مقابلہ کیا ہے اور وہ اپنی وقار اور ہندوستان کے تنوع کے تحفظ کے لیے اس کی مخالفت جاری رکھیں گے ۔ واضح رہے کہ یہ تنازعہ مرکز کی جانب سے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت تھری لینگوویج فارمولے پر اصرار اور تمل ناڈو کے اس سے انکار کے گرد گھوم رہا ہے ۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments