National

تمل ناڈو کا نیا سیاسی منظر نامہ: 'انڈیا بلاک' میں ڈی ایم کے کی جگہ سپر اسٹار وجے کی شمولیت کے امکانات پر بحث تیز

تمل ناڈو کا نیا سیاسی منظر نامہ: 'انڈیا بلاک' میں ڈی ایم کے کی جگہ سپر اسٹار وجے کی شمولیت کے امکانات پر بحث تیز

چنئی، 4 جون:آندھرا پردیش اور تمل ناڈو سمیت پورے ملک کی سیاست میں اس وقت زبردست ہلچل مچ گئی ہے جب یہ خبر سامنے آئی کہ 'انڈیا بلاک' سے ڈی ایم کے کے الگ ہونے کے بعد، اب تمل ناڈو کے نئے اور ہر دلعزیز وزیر اعلیٰ جوزف وجے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ وجے کی پارٹی تاملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے ) قومی سطح پر اپوزیشن کے 'انڈیا الائنس' میں شامل ہو کر ڈی ایم کے کی جگہ لے سکتی ہے ، جس سے وجے کا قومی سیاست میں باضابطہ ڈیبیو ہوگا۔ذرائع کے مطابق، تمل ناڈو میں کانگریس کو اپنی کابینہ میں دو وزارتی عہدے اور ایک راجیہ سبھا سیٹ دے کر وجے نے پہلے ہی کانگریس کے ساتھ اپنے اتحاد کو فولادی بنا دیا ہے ۔ اب وہ کانگریس کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کے ساتھ مل کر ملکی سیاست میں ایک بڑا رول ادا کرنے کے خواہش مند ہیں۔اس سیاسی تبدیلی کو اس وقت مزید تقویت ملی جب آج دن میں کانگریس کے تمل ناڈو انچارج گریش چوڈنکر نے چنئی سکریٹریٹ (سیکریٹریٹ) میں وزیر اعلیٰ وجے سے ایک اہم ملاقات کی۔ مانا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کا بنیادی مقصد ٹی وی کے کو انڈیا بلاک کا حصہ بنانا تھا تاکہ ڈی ایم کے کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے ، اسے پُر کیا جا سکے ۔ حالیہ تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں وجے کے وسیع ووٹ بینک نے ڈی ایم کے کو زبردست نقصان پہنچایا تھا، اس لیے اب کانگریس اور ٹی وی کے کا ایک ساتھ آنا اتحاد کو نئی طاقت دے سکتا ہے ، کیونکہ دونوں پارٹیاں ملک میں سیکولرازم (رواداری) کے تحفظ کا مشترکہ ہدف رکھتی ہیں۔کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ لوک سبھا میں 22 اور راجیہ سبھا میں 8 ارکانِ پارلیمنٹ رکھنے والی ڈی ایم کے کا اتحاد سے باہر جانا اگرچہ ایک عارضی دھچکا ہو سکتا ہے ، لیکن وجے کی شمولیت سے اپوزیشن کو ایک نیا 'اسٹار پاور' اور کرشماتی چہرہ مل جائے گا۔ کانگریس رہنما¶ں کے مطابق، راہل گاندھی اور وجے کے درمیان موجود خصوصی تعلقات آنے والے لوک سبھا انتخابات میں ملک کے سیاسی منظرنامے کو بدلنے میں مددگار ثابت ہوں گے ۔ وجے تمل ناڈو کے سیاسی نقشے کو پہلے ہی بدل چکے ہیں اور ان کی پارٹی 'ٹی وی کے ' کا مقصد اب اس سیکولر جگہ پر قبضہ کرنا ہے جس پر کبھی ڈی ایم کے کا دعویٰ ہوا کرتا تھا۔ کانگریس کا ساتھ ملنے سے وجے کو بی جے پی کے خلاف لڑنے کے لیے ایک مضبوط قومی شناخت مل جائے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وجے کا فلمی کرشمہ صرف تمل ناڈو تک محدود نہیں ہے ، بلکہ پڑوسی ریاستوں جیسے کیرالہ میں ان کا بہت بڑا فین بیس ہے اور ایک حد تک آندھرا پردیش اور کرناٹک میں بھی ان کی زبردست مقبولیت ہے ۔ کانگریس انتخابات کے وقت وجے کی اس مقبولیت کا فائدہ پورے جنوبی ہند میں اٹھا سکتی ہے ۔ ماضی میں ڈی ایم کے کے مرحوم رہنما ایم کروناندھی سے لے کر اے آئی اے ڈی ایم کے کی جے للیتا اور اب ایم کے اسٹالن تک، تمل ناڈو کے ہر بڑے لیڈر نے قومی سیاست میں اہم کردار ادا کر کے اپنے کارکنوں کا سر فخر سے بلند رکھا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سپر اسٹار وجے بھی اسی نقشِ قدم پر چل کر قومی سیاست کا رخ بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments