National

تمل ناڈو انتخاب: کانگریس اور ڈی ایم کے سمیت 21 پارٹیوں نے اتحاد کا کیا اعلان، کانگریس کو ملی 28 سیٹیں

تمل ناڈو انتخاب: کانگریس اور ڈی ایم کے سمیت 21 پارٹیوں نے اتحاد کا کیا اعلان، کانگریس کو ملی 28 سیٹیں

تمل ناڈو میں 234 رکنی اسمبلی کا انتخاب رواں سال ہونے والا ہے۔ اس کے لیے جاری سرگرمیوں کے درمیان ڈی ایم کے اور کانگریس نے ایک بار پھر آپس میں اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی قیادت میں ڈی ایم کے نے ایک بڑے اتحاد کی تیاری کی ہے، جس میں مجموعی طور پر 21 پارٹیاں شامل ہوئی ہیں۔ کانگریس کو اس اتحاد میں 28 اسمبلی سیٹوں پر امیدوار اتارنے کا موقع دیا گیا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اور تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے صدر سیلواپیرونتھاگائی کے درمیان آج انتہائی اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں انتخابی حلقوں کی تقسیم پر آخری مہر لگا دی گئی۔ ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان ہوئے معاہدہ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کانگریس تمل ناڈو میں 28 اسمبلی سیٹوں پر امیدوار اتارے گی۔ ساتھ ہی آئندہ راجیہ سبھا انتخاب میں بھی کانگریس پارٹی کے لیے ایک سیٹ محفوظ رکھی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ڈی ایم کے نے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر تروچی شیوا پر ایک بار پھر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے انھیں راجیہ سبھا رکن کی شکل میں برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ کانسٹنٹائن رویندرن کو پہلی بار راجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اتحاد میں ڈی ایم کے کو 2، کانگریس کو ایک اور ڈی ایم ڈی کے کو 1 راجیہ سبھا سیٹ ملی ہے۔ ڈی ایم کے نے ایک پریس ریلیز جاری کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’تمل ناڈو کی سیاست کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ ایک ہی اتحاد بغیر ٹوٹے اور نئی پارٹیوں کو شامل کرتے ہوئے چوتھی بار انتخابات کا سامنا کر رہا ہے۔ تمل ناڈو کی سیاست کی اب تک کی تاریخ رہی ہے کہ اسمبلی انتخاب کے لیے تیار اتحاد اگلے انتخاب تک کبھی قائم نہیں رہ پایا۔‘‘ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ اسٹالن نے اپنی مضبوط شخصیت اور خیر سگالی والے رویہ سے یہ نئی تاریخ رقم کی ہے۔ ڈی ایم کے نے اپوزیشن لیڈران پر تلخ حملہ بھی کیا۔ پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈران گزشتہ 2 سالوں سے اتحاد ٹوٹنے کی پیشین گوئی کر رہے تھے، لیکن ان کی خواہشات پوری نہیں ہو پائیں۔ ڈی ایم کے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کل کے دہلی انٹرویو تک ایڈپادی پلانی سوامی اتحاد ٹوٹنے کی امید لگائے بیٹھے تھے، لیکن آخر میں وہ تنہا رہ گئے۔‘‘ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ برسراقتدار پارٹی کی حمایت میں لہر کو دیکھتے ہوئے کئی نئی پارٹیاں بھی اس محاذ میں شامل ہو رہی ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments