National

تلنگانہ میونسپل انتخابات: کانگریس کی واضح برتری، کیمپ سیاست عروج پر

تلنگانہ میونسپل انتخابات: کانگریس کی واضح برتری، کیمپ سیاست عروج پر

حیدرآباد : تلنگانہ میں منعقدہ میونسپل اور کارپوریشن انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی ریاست بھر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ابتدائی اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق حکمراں کانگریس پارٹی نے بلدیاتی اداروں میں نمایاں سبقت حاصل کی ہے، تاہم متعدد مقامات پر واضح اکثریت نہ ملنے کے سبب کیمپ سیاست نے زور پکڑ لیا ہے۔ ریاست کی 116 میونسپلٹیوں میں سے اب تک موصولہ نتائج کے مطابق کانگریس نے 62 سے زائد میونسپلٹیوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اپوزیشن جماعت بی آر ایس تقریباً ایک درجن میونسپلٹیوں تک محدود رہی، جبکہ فارورڈ بلاک نے ایک میونسپلٹی اپنے نام کی۔ کئی مقامات پر نتائج ابھی مکمل طور پر جاری ہونا باقی ہیں۔ وارڈ سطح پر بھی کانگریس کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ ہزاروں وارڈز کے نتائج میں کانگریس سرفہرست رہی، اس کے بعد بی آر ایس اور پھر بی جے پی کا نمبر ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین اور آزاد امیدواروں نے بھی متعدد نشستیں جیت کر ہنگ حالات میں اہم کردار حاصل کر لیا ہے۔ تقریباً 37 میونسپلٹیوں میں کسی بھی جماعت کو جادوئی عدد حاصل نہ ہونے کے سبب چیئرمین اور وائس چیئرمین کے انتخاب کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سنگاریڈی، نظام آباد، سوریا پیٹ اور عادل آباد سمیت کئی اضلاع میں سیاسی جماعتیں اپنے منتخب کونسلروں اور آزاد امیدواروں کو کیمپوں میں منتقل کر رہی ہیں تاکہ انہیں مخالفین کی پیشکشوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ سنگاریڈی ضلع کے اسناپور میں آزاد امیدواروں کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی، جس پر پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ سوریا پیٹ میں کانگریس نے اکثریت کے باوجود اپنے 31 کونسلروں کو کیمپ منتقل کیا تاکہ چیئرمین کے انتخاب تک پارٹی اتحاد برقرار رہے۔ ریاست کی سات کارپوریشنوں میں بھی کانگریس نے برتری دکھائی۔ منچریال، راما گنڈم اور نلگنڈہ میں واضح اکثریت حاصل کی گئی، جبکہ محبوب نگر میں سبقت جاری ہے۔ کچھ کارپوریشنوں میں کانگریس اور سی پی آئی برابر نشستوں کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی نے کریم نگر اور نظام آباد میں مضبوط کارکردگی کا دعویٰ کیا ہے۔ بی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی آر نے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شعور کو کم نہ سمجھا جائے اور آئندہ ضمنی انتخابات میں اصل طاقت کا اندازہ ہوگا۔ انہوں نے پارٹی بدلنے والے ارکان کے استعفوں کا مطالبہ بھی کیا۔ بی جے پی کے ریاستی صدر رام چندر راؤ نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت نے چھ میونسپلٹیوں میں سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر ابھر کر طاقت میں اضافہ کیا ہے اور 250 سے زائد وارڈز جیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کسی کو غیر مشروط حمایت نہیں دے گی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments