حیدرآباد/رانچی: مہاراشٹر کے بعد اب تلنگانہ اور جھارکھنڈ میں بھی بلدیاتی انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ دونوں ریاستوں کے ریاستی الیکشن کمیشن نے مقامی شہری اداروں کے انتخابات کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے، کیونکہ دونوں ریاستوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے شدید اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ریاستی الیکشن کمیشن پر حکومت کے دباؤ میں آ کر دھاندلی کی راہ ہموار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ جھارکھنڈ میں ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق رانچی سمیت ریاست کے 48 شہری بلدیاتی اداروں میں 23 فروری کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ کرائی جائے گی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 27 فروری کو ہوگی۔ ریاستی الیکشن کمشنر الکا تیواری نے شیڈول جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بلدیاتی انتخابات کافی عرصے سے زیر التوا تھے، تاہم مختلف انتظامی اور قانونی وجوہات کے باعث ان میں تاخیر ہوتی رہی۔ اب شیڈول کے اعلان کے بعد سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے اپنی انتخابی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بلدیاتی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ریاست میں 116 میونسپلٹیز اور 7 میونسپل کارپوریشنز کے لیے انتخابات ہوں گے، تاہم گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اس انتخابی عمل کا حصہ نہیں ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کے لیے نامزدگی کا عمل 28 جنوری سے 31 جنوری 2026 تک جاری رہے گا، جبکہ ووٹنگ 11 فروری کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 13 فروری کو انجام دی جائے گی۔ یہاں بھی ووٹنگ بیلٹ پیپر کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بی جے پی نے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان پرتل شاہ دیو نے کہا کہ ای وی ایم کو ہٹا کر بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانا ایک شرمناک قدم ہے۔ ان کے مطابق ریاستی الیکشن کمیشن واضح طور پر حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے، ورنہ جدید اور شفاف نظام کو چھوڑ کر پرانے طریقے کو کیوں اپنایا جاتا۔ بی جے پی ترجمان نے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کی کوشش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اس مبینہ دھاندلی کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ پارٹی کے کارکن ہر پولنگ اسٹیشن پر چوکنا رہیں گے اور انتخابی عمل پر گہری نظر رکھیں گے۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ای وی ایم کے استعمال پر غور کرے۔ دوسری جانب ریاستی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا فیصلہ آئینی دائرے میں اور تمام قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس طریقۂ کار سے انتخابات منصفانہ اور شفاف انداز میں مکمل کرائے جائیں گے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بیلٹ پیپر بمقابلہ ای وی ایم کا یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور بلدیاتی انتخابات ریاستی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو