خون ملنے سے شدید بیمار مریضہ کی جان بچ سکتی تھی! خبر سنتے ہی ساگر دیگھی سے درگا پور 200 کلومیٹر دوڑے 7 نوجوان
جان بچانے کے لیے فاصلے کو معمولی سمجھا! 200 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرکے سات نوجوانوں نے خون عطیہ کرکے مریضہ کی جان بچانے میں مدد کی۔ خون کی نہ کوئی ذات ہوتی ہے، نہ کوئی مذہب! اسی انسانی جذبے کے تحت مرشدآباد کے ساگر دیگھی سے سات نوجوان تقریباً 200 کلومیٹر کا سفر کرکے درگا پور پہنچے۔
معلوم ہوا ہے کہ مریضہ کا نام مومنہ بی بی ہے اور وہ ساگر دیگھی کے امام نگر گاو¿ں کی رہنے والی ہیں۔ وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہو گئی تھیں اور انہیں درگا پور کے دی مشن اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ فوری طور پر آپریشن کرنا ضروری ہے، لیکن اس کے لیے خون کی ضرورت تھی۔
خبر ملتے ہی ساگر دیگھی کے نوجوانوں نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی۔ زندگی اور موت کے درمیان جوجھ رہی مومنہ کی جان بچانے کے لیے سبیرال اسلام، مسعودال ہدیٰ، محبوب عالم، بادشاہ شیخ، کاجل شیخ، باپی شیخ اور راجیب شیخ درگا پور کے لیے روانہ ہوگئے۔بس اور ٹرین تبدیل کرتے ہوئے وہ 200 کلومیٹر دور واقع اسپتال پہنچے۔ وہاں مومنہ بی بی کے آپریشن کے لیے سبھی نے خون عطیہ کیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ وقت پر خون مل جانے کی وجہ سے آپریشن کامیاب رہا۔ فی الحال مومنہ بی بی کی حالت مستحکم ہے۔
اس واقعے کے بعد امام نگر سمیت پورا ساگر دیگھی جذباتی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے، ”آج کے دور میں جہاں لوگ اپنے محلے کے اسپتال میں بھی خون عطیہ کرنے نہیں جانا چاہتے، وہاں ان نوجوانوں نے اتنی دور جاکر خون عطیہ کیا اور ایک ماں کی جان بچائی۔ یہی تو حقیقی انسانیت ہے۔“خون عطیہ کرنے والے نوجوانوں میں شامل سبیرال اسلام نے کہا، ”مومنہ بی بی ہمارے گاو¿ں کی ہی رہنے والی ہیں۔ ان کی مشکل کے بارے میں خون کے رضاکار سنجیو داس سے سن کر ہم خاموش نہیں بیٹھ سکے۔
خون ملنے سے شدید بیمار مریضہ کی جان بچ سکتی تھی! خبر سنتے ہی ساگر دیگھی سے درگا پور 200 کلومیٹر دوڑے 7 نوجوان...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments