کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی نئی حد بندی میں فی الحال ہائی کورٹ کی مداخلت نہیں
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی نئی حد بندی (ڈی لمیٹیشن) کے معاملے میں کولکاتا ہائی کورٹ نے فی الحال کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا۔ میونسپل کارپوریشن میں پہلے 144 وارڈ تھے، جن کی تعداد بڑھ کر اب 209 ہو گئی ہے۔ اس حد بندی کے قانونی طریق? کار کے مطابق نہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ جمعرات کو ہائی کورٹ میں جسٹس ہیرنمئے بھٹاچاریہ کی بنچ نے دونوں فریقوں سے حلف نامے جمع کرانے کو کہا۔ عدالت فی الحال اس تنازع میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔
ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق، وارڈوں کی نئی حد بندی سے متعلق مقدمے میں ریاستی حکومت کو آئندہ چار ہفتوں کے اندر حلف نامہ جمع کرانا ہوگا۔ اس کے بعد درخواست گزار کو مزید دو ہفتوں کے اندر جوابی حلف نامہ داخل کرنا ہوگا۔ چھ ہفتے بعد اس مقدمے کی دوبارہ سماعت ہائی کورٹ میں ہو سکتی ہے۔
کولکاتا میں بلدیاتی انتخابات قریب ہیں۔ دسمبر میں میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات ہونے کا امکان ہے۔ اس سے پہلے وارڈوں کی نئی حد بندی کو لے کر پیچیدگیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ جمعرات کی سماعت سے یہ تنازع حل ہو جائے گا۔ تاہم، عدالت کی جانب سے فی الحال مداخلت نہ کیے جانے کے باعث نئی حد بندی کا فیصلہ برقرار رہے گا۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں وارڈوں کی تعداد بڑھانے اور ان کی نئی حد بندی کے خلاف قصبہ کے ایک رہائشی نے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ وارڈوں کی سرحدیں دوبارہ مقرر کرتے وقت معقول توازن برقرار نہیں رکھا گیا۔ وارڈوں کی آبادی، جغرافیائی محلِ وقوع اور انتظامی مطابقت جیسے پہلوو¿ں پر مناسب طور پر غور نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار نے وارڈوں کی نئی حد بندی کے معقول ہونے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے عدالت سے اس معاملے پر غور کرنے کی اپیل کی ہے۔
بلدیاتی انتخابات سے پہلے وارڈوں کی نئی حد بندی کو لے کر سیاسی رسہ کشی بھی جاری ہے۔ کئی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس کا اثر انتخابی حساب کتاب پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم، عدالت نے اس معاملے میں کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔ جج تمام فریقوں کے دلائل سننے کے بعد وارڈوں کی نئی حد بندی پر فیصلہ کریں گے۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی نئی حد بندی میں فی الحال ہائی کورٹ کی مداخلت نہیں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments