Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

محکمہ ڈاک کے انضمام کے خلاف احتجاج، انڈین پوسٹل ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے ملازمین بھوک ہڑتال پر

Admin
By Admin
Oct 29, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

محکمہ ڈاک کے انضمام کے خلاف احتجاج، انڈین پوسٹل ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے ملازمین بھوک ہڑتال پر
محکمہ ڈاک کے انضمام کے خلاف احتجاج، انڈین پوسٹل ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے ملازمین بھوک ہڑتال پر — October 29, 2026
محکمہ ڈاک کے انضمام کے خلاف احتجاج، انڈین پوسٹل ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے ملازمین بھوک ہڑتال پر
سینٹرل کولکاتا پوسٹل ڈویڑن کو شمالی کولکاتا اور مشرقی کولکاتا جیسے دیگر ڈویڑنوں کے ساتھ ضم کرنے کی تجویز کے خلاف جمعرات کو انڈین پوسٹل ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے ملازمین نے مواصلاتی بھون کے سامنے احتجاج کیا اور بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ تاریخی سینٹرل کولکاتا ڈویڑن کی الگ شناخت برقرار رکھی جائے۔ ڈویڑن کو دوسرے ڈویڑنوں میں ضم کرنے کے بجائے اس کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔
تنظیم کے نمائندوں کا الزام ہے کہ اگر یہ انضمام نافذ کیا گیا تو ملازمین کی تعیناتی، ملازمت کے تحفظ، فلاح و بہبود اور انتظامی امور کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے گزشتہ 20 سے 30 سال سے سینٹرل کولکاتا ڈویڑن میں کام کرنے والے ملازمین کے مستقبل کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈویڑن کی الگ شناخت اور انتظامی ڈھانچے کے ختم ہونے سے ملازمین کی چھٹیوں، گریجویٹی، دستاویزات اور اکاو¿نٹس سے متعلق کاموں میں پیچیدگیاں بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انڈین پوسٹل ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے مغربی بنگال سرکل کے سرکل سیکریٹری سورنیندو چکرورتی نے کہا، ”سینٹرل کولکاتا ایک تاریخی ڈویڑن ہے۔ اسے کسی دوسرے ڈویڑن کے ساتھ ضم نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایک طرف مختلف شعبوں میں ڈویڑنوں کی تعداد بڑھانے اور انتظامی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی بات کی جا رہی ہے، تو دوسری طرف ایک اہم ڈویڑن کو دوسرے کے ساتھ ضم کرنے کی تجویز تشویش ناک ہے۔“
دوسری جانب، تنظیم کے سینٹرل کولکاتا ڈویڑن کے ڈویڑنل سیکریٹری دیودت رائے کا کہنا ہے کہ اس انضمام سے صرف ملازمین ہی نہیں، بلکہ عام صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، اب تک سینٹرل کولکاتا ڈویڑن کے تحت آنے والے صارفین اپنے ہی علاقے میں ڈاک خدمات سے متعلق مختلف مسائل حل کروا سکتے تھے۔ لیکن انضمام کے بعد انہیں دستاویزات یا دیگر انتظامی کاموں کے لیے بیلگاچھیا یا نیو ٹاو¿ن جیسے دور دراز علاقوں میں جانا پڑ سکتا ہے۔
خصوصاً بزرگ شہریوں کا ذکر کرتے ہوئے دیودت رائے نے کہا، ”بو بازار اور بڑا بازار کے علاقوں میں بہت سے صارفین کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے۔ اگر انہیں ڈاک خدمات سے متعلق کسی مسئلے کے حل کے لیے دور جانا پڑا تو انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔“ سورنیندو چکرورتی نے کہا، ”راج بھون، فورٹ ولیم، اسمبلی اور رائٹرس بلڈنگ جیسے اہم انتظامی ادارے اس سرکل کے تحت آتے ہیں۔ ڈویڑن کے ڈھانچے میں تبدیلی سے ان علاقوں کے مختلف اداروں اور عام صارفین کو ڈاک خدمات سے متعلق کاموں میں بھی دشواری ہو سکتی ہے۔“
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی تحریک صرف ملازمین کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہیں ہے، بلکہ محکمہ ڈاک کی خدمات حاصل کرنے والے عام لوگوں کی سہولت برقرار رکھنا بھی اس تحریک کا ایک اہم مقصد ہے۔ اسی لیے احتجاج کرنے والوں نے سینٹرل کولکاتا ڈویڑن کی الگ شناخت برقرار رکھنے اور انضمام کی مجوزہ تجویز پر فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر، دیودت رائے نے بتایا کہ بھوک ہڑتال کے دوران تنظیم کے نمائندوں کی مغربی بنگال سرکل کے چیف پوسٹ ماسٹر جنرل کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ حکام نے تنظیم کی تجاویز اعلیٰ حکام تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تنظیم کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ اس معاملے میں ایسا کوئی فیصلہ نہ ہو جو ملازمین کے مفادات کے خلاف ہو، اس بات کا خیال رکھا جائے گا۔

محکمہ ڈاک کے انضمام کے خلاف احتجاج، انڈین پوسٹل ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے ملازمین بھوک ہڑتال پر...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn