National

تلنگانہ حکومت نے ذات پر مبنی سروے کا ڈاٹا کیا جاری، کئی اہم حقائق سے اٹھا پردہ

تلنگانہ حکومت نے ذات پر مبنی سروے کا ڈاٹا کیا جاری، کئی اہم حقائق سے اٹھا پردہ

تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے ذات پر مبنی سروے کا ڈاٹا جاری کر دیا ہے، جس میں کئی اہم حقائق سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں سب سے بڑی آبادی والے طبقہ کی بات کریں، تو وہ مدیگا طبقہ ہے، جن کی تعداد 36.58 لاکھ ہے۔ یہ ریاست کی مجموعی آبادی کا تقریباً 10.3 فیصد ہے۔ دوسرے نمبر پر شیخ مسلم طبقہ ہے، جن کی تعداد 27.96 لاکھ بتائی گئی ہے اور یہ ریاستی آبادی کا 7.9 فیصد ہے۔ مدیراج طبقہ تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ ان کی تعداد 26.39 لاکھ ہے، جو کُل آبادی کا 7.4 فیصد ہے۔ اس سروے میں جو انتہائی اہم بات سامنے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ جنرل کیٹگری کے مقابلے میں درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) طبقہ کے لوگ 3 گنا زیادہ پچھڑے ہیں۔ ریاستی وزیر پونّم پربھاکر نے بتایا کہ ’مجموعی پسماندگی انڈیکس‘ کے نمبرات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ جنرل کیٹگری کے مقابلے پسماندہ طبقہ 2.7 گنا زیادہ پچھڑا ہے۔ پوری ریاست کا ’مجموعی پسماندگی انڈیکس‘ 81 رہا۔ پربھاکر نے بتایا کہ انڈیکس کا پوائنٹ جتنا زیادہ ہوگا، پسماندگی بھی اتنی ہی زیادہ مانی جائے گی۔ انڈیکس کے پوائنٹس کی بنیاد پر ریاست کی 135 ذاتیں پہلے کی سوچ سے کہیں زیادہ پسماندہ پائی گئی ہیں۔ یہ مجموعی آبادی کا تقریباً 67 فیصد ہیں۔ پونّم پربھاکر نے تلنگانہ کے سماجی، معاشی، تعلیمی، روزگار، سیاسی و ذات (ایس ای ای ای پی سی) پر مبنی سروے سے متعلق خود مختار ایکسپرٹ ورکنگ گروپ کی رپورٹ کے کچھ حصے جاری کیے ہیں۔ اس سروے میں تلنگانہ کے 3.50 کروڑ (تقریباً 97 فیصد) سے زیادہ کنبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ سروے میں کنبوں کی آمدنی، پیشہ، تعلیم، زمین کا مالکانہ حق، جائیداد کامالکانہ حق، طبی اور عوامی سہولیات تک رسائی جیسے 42 اشاروں کا استعمال کر کے 242 ذات پر مبنی گروپوں کی جانچ کی گئی۔ اس سروے میں جن 135 ذاتوں کو زیادہ پسماندہ پایا گیا، ان میں 69 پسماندہ ذاتیں، 41 درج فہرست ذاتوں کے گروپس اور 25 درج فہرست قبائل شامل ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پسماندہ طبقات کا ایک بڑا حصہ آج بھی ساہوکاروں سے اونچی شرح پر قرض لیتا ہے۔ میڈیکل ایمرجنسی کے لیے بھی انھیں پیسے قرض لینے پڑتے ہیں۔ ایس ای ای ای پی سی سروے رپورٹ کے جلد 3 اور 4 میں دیے گئے ڈاٹا کے مطابق تقریباً 50 فیصد ایس سی کیٹگری کے لوگ دِہاڑی مزدور ہیں، جبکہ عام ذاتوں میں یہ تعداد صرف دسواں حصہ ہے۔ صرف 5 فیصد ایس ٹی افراد پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت کر رہے تھے، جبکہ 30 فیصد سے زیادہ عام ذاتوں کے لوگ پرائیویٹ سیکٹر میں اچھی تنخواہ والی ملازمتوں پر تھے۔ سرکاری رہائش منصوبوں میں لاکھوں یونٹس الاٹ کرنے کی صلاحیت اور فائدوں پر سوال اٹھاتے ہوئے سروے میں پایا گیا کہ تلنگانہ کی 63 فیصد فیملی شہری اور دیہی دونوں ہی علاقوں میں 2 یا اس سے کم کمروں والے گھروں میں رہتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments