National

تھانہ انچارج نے پیٹھ پر لگائی ’شہریت جانچ مشین‘، پوچھا: کہیں بنگلہ دیشی تو نہیں؟ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سے ہنگامہ

تھانہ انچارج نے پیٹھ پر لگائی ’شہریت جانچ مشین‘، پوچھا: کہیں بنگلہ دیشی تو نہیں؟ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سے ہنگامہ

کوشامبی: غازی آباد کے کوشامبی تھانہ علاقے سے جڑا ایک ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو میں کوشامبی تھانہ انچارج (ایس ایچ او) انسپکٹر اجے شرما ایک شخص کی پیٹھ پر مبینہ مشین لگا کر اس کی شہریت جانچنے کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس مشین نے مذکورہ شخص کو بنگلہ دیشی بتایا ہے، جبکہ وہ خود کو بہار کے ضلع ارریہ کا رہائشی بتا رہا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس کی کارروائی پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا واقعی ایسی کوئی مشین موجود ہے جس کے ذریعے کسی شخص کی شہریت کی شناخت کی جا سکے۔ کئی صارفین نے اسے پولیس کی جانب سے دباؤ بنانے کا ایک طریقہ قرار دیا ہے۔ موصولہ معلومات کے مطابق یہ واقعہ 23 دسمبر کا ہے۔ اس دن کوشامبی تھانہ علاقے کے بھوواپور سلمز اور بہاری مارکیٹ میں پولیس نے آر آر ایف اور سی آر پی ایف کے ساتھ مل کر سخت تلاشی مہم چلائی تھی۔ یہ مہم روہنگیا اور مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت کے لیے چلائی گئی تھی، جسے ’آپریشن ٹارچ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس دوران جھگی بستیوں میں رہنے والے افراد کے شناختی دستاویزات کی جانچ کی گئی۔ وائرل ویڈیو کو اسی سرچ آپریشن کے دوران کا بتایا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پوچھ گچھ کے وقت تھانہ انچارج مبینہ مشین کے ذریعے شہریت جانچنے کی بات کرتے ہیں اور بعد میں مشین سے بنگلہ دیشی ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے اے سی پی اندراپورم ابھیشیک شریواستو نے کہا کہ یہ کوئی تکنیکی یا سائنسی جانچ نہیں تھی۔ ان کے مطابق پولیس نے جھگیوں میں رہنے والے افراد کی شناخت کی تصدیق کے لیے سرچ اور چیکنگ مہم چلائی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران بعض اوقات مختلف طریقوں سے سوالات کیے جاتے ہیں تاکہ درست معلومات سامنے آسکیں۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے رہنما ساکیت گوکھلے نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں غازی آباد پولیس کو نوٹس بھیجیں گے۔ فی الحال اس وائرل ویڈیو کی پولیس محکمے میں بھی چرچا ہورہی ہے اور سوشل میڈیا پر یہ معاملہ تجسس اور تنقید دونوں کا موضوع بنا ہوا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments