National

سیکولر اقدار کے دفاع میں ہجوم کے سامنے ڈٹ گئے اتراکھنڈ کے دیپک، راہل گاندھی نے کی ستائش

سیکولر اقدار کے دفاع میں ہجوم کے سامنے ڈٹ گئے اتراکھنڈ کے دیپک، راہل گاندھی نے کی ستائش

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں پیش آئے ایک واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نوجوان دیپک کو ہندوستان کا ہیرو قرار دیا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر دیپک کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ دیپک آئین اور انسانیت کے لیے کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق وہ نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کی زندہ مثال ہیں اور یہی بات اقتدار اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزرتی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ خوف اور نفرت کے ماحول میں کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا اور ایسے وقت میں دیپک جیسے لوگوں کی ضرورت ہے جو نہ جھکیں اور نہ ڈریں۔ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آئین کے بغیر ترقی محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ انہوں نے دیپک کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ڈرو مت، تم ببر شیر ہو۔ یہ پورا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو سے سامنے آیا، جس میں ایک ہجوم کے ذریعے ایک نوجوان سے پوچھا جاتا ہے کہ ’تو کون ہے؟‘، جواب آتا ہے، ’میں محمد دیپک ہوں۔‘ ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ بجرنگ دل کے کچھ کارکن کوٹ دوار میں ایک کپڑوں کی دکان کے نام پر اعتراض کر رہے ہیں۔ یہ دکان ایک مسلم تاجر کی ہے جو تقریباً تیس برس سے اسی نام سے کاروبار کر رہے ہیں۔ کارکن دکان کے نام میں شامل لفظ ’بابا‘ پر اعتراض کرتے ہوئے نام بدلنے کا دباؤ بناتے ہیں اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اسی دوران دیپک موقع پر پہنچتے ہیں۔ وہ دکان کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی اس تنازعہ سے ان کا کوئی ذاتی مفاد جڑا ہے لیکن وہ ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر مخالفت کرتے ہیں۔ جب ان سے شناخت پوچھی جاتی ہے تو وہ خود کو ’محمد دیپک‘ بتاتے ہیں۔ اس جواب کا مقصد کسی مذہبی وابستگی کا اظہار نہیں بلکہ اسی سوچ کو چیلنج کرنا تھا جو نام اور شناخت کو مذہب کے خانوں میں بانٹ کر دیکھتی ہے۔ دیپک دراصل یہ پیغام دیتے ہیں کہ یہ ملک کسی ایک مذہب یا ہجوم کی مرضی سے نہیں بلکہ آئین اور برابری کے اصولوں سے چلتا ہے۔ دیپک کی اس مداخلت کے دوران تلخ کلامی ہوتی ہے اور بعد میں انہیں دھمکیاں دیے جانے کے دعوے بھی سامنے آتے ہیں۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد معاملہ مزید بڑھ گیا۔ 26 جنوری کو پٹیل مارگ پر واقع ’بابا کلیکشن‘ نامی دکان سے جڑا یہ تنازعہ بعد میں بڑے احتجاج میں بدل گیا، جہاں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے مظاہرہ کیا۔ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ کانگریس کے دیگر رہنماؤں نے بھی دیپک کی حمایت کی ہے اور اس واقعے کو نفرت کے مقابلے میں آئین اور سیکولر اقدار کے دفاع کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ کوٹ دوار کا یہ واقعہ اب اس بحث کی علامت بن چکا ہے کہ کیا عام شہری ہجوم کے دباؤ کے سامنے خاموش رہے یا آئینی قدروں کے ساتھ کھڑا ہو۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments