National

سی بی ایس ای تنازعہ: طلبہ کی جدوجہد کو راہل گاندھی کی حمایت، دھرمیندر پردھان کی برطرفی اور آزاد جانچ کا مطالبہ

سی بی ایس ای تنازعہ: طلبہ کی جدوجہد کو راہل گاندھی کی حمایت، دھرمیندر پردھان کی برطرفی اور آزاد جانچ کا مطالبہ

نئی دہلی: سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام (او ایس ایم) سے متعلق تنازع کے درمیان کانگریس نے مرکزی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اس معاملے کا اصل ذمہ دار قرار دیا ہے۔ سی بی ایس ای کے چیئرمین راہل سنگھ اور سکریٹری ہمانشو گپتا کے تبادلوں اور ایک رکنی جانچ کمیٹی کی تشکیل کے بعد کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت اصل ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ راہل گاندھی نے نہ صرف حکومت کے اقدامات پر سوال اٹھائے بلکہ ان طلبہ کی بھی کھل کر حمایت کی جنہوں نے بے ضابطگیوں کو منظر عام پر لانے میں کردار ادا کیا۔ کانگریس کے سرکاری ایکس ہینڈل پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سی بی ایس ای میں سامنے آنے والی گڑبڑیوں کی مکمل ذمہ داری وزارت تعلیم پر عائد ہوتی ہے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اس کے لیے جوابدہ ہیں۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ ٹینڈر عمل کے دوران قواعد میں تبدیلیاں کی گئیں اور ایک متنازع ماضی رکھنے والی کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا۔ پارٹی کے مطابق صرف افسروں کے تبادلے سے معاملے کی سنگینی کم نہیں ہو جاتی اور حکومت اپنی جوابدہی سے فرار اختیار نہیں کر سکتی۔ دوسری جانب یوتھ کانگریس نے بھی اس معاملے پر احتجاجی مہم تیز کر دی ہے۔ ممبئی میں یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب کی قیادت میں ’یوا آکروش مورچہ‘ کے تحت احتجاج کیا گیا۔ یوتھ کانگریس نے الزام لگایا کہ حکومت لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہی ہے اور کبھی پرچہ افشا ہونے کے واقعات تو کبھی امتحانی نظام میں سامنے آنے والی بے ضابطگیاں طلبہ کے اعتماد کو مجروح کر رہی ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام سے متعلق تنازعہ میں چند نوجوان طلبہ کے کردار نے بھی خاص توجہ حاصل کی ہے۔ کانگریس کے مطابق ویدانت، سارتھک سدھانت اور نیسرگ نامی طلبہ نے دستاویزی شواہد کی بنیاد پر بے ضابطگیوں کو اجاگر کیا۔ پارٹی نے کہا کہ 18 سالہ سارتھک سدھانت نے سرکاری دستاویزات کی مدد سے یہ معاملہ اٹھایا اور بتایا کہ ٹینڈر کی شرائط میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں ایک مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچا۔ کانگریس نے مزید بتایا کہ سارتھک سدھانت نے پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے سامنے بھی اپنی تحقیق اور مشاہدات پیش کیے۔ پارٹی کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین دگ وجے سنگھ کی دعوت پر سارتھک نے اپنے نکات اور دستاویزات پیش کیے، جس سے اس معاملے کو مزید توجہ ملی۔ کانگریس نے اسے نوجوان نسل کی بیداری اور جمہوری عمل میں ان کی مؤثر شرکت کی مثال قرار دیا۔ اسی سلسلے میں راہل گاندھی نے سارتھک سدھانت اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کی۔ انہوں نے ملاقات کی تصاویر اپنے ایکس ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے سارتھک کے لیے پیغام دیا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ تصاویر میں راہل گاندھی سارتھک اور ان والدہ کے ساتھ نظر آئے۔ کانگریس نے اس ملاقات کو نوجوانوں کی آواز کے ساتھ یکجہتی اور ان کی حوصلہ افزائی کا اظہار قرار دیا۔ قبل ازیں، راہل گاندھی نے ایک نیوز چینل کی ویڈیو بھی شیئر کی جس میں سی بی ایس ای چیئرمین اور سکریٹری کے تبادلوں اور جانچ کمیٹی کی تشکیل کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چیئرمین کا تبادلہ ہو گیا، سکریٹری کا تبادلہ ہو گیا اور ایک رکنی جانچ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی لیکن اصل ذمہ دار محفوظ ہیں۔ ان کے مطابق افسروں کو ہٹا کر وزیر کو بچا لیا گیا ہے اور یہ جوابدہی نہیں بلکہ پردہ پوشی ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ کانگریس کا مطالبہ آج بھی وہی ہے کہ وزیر تعلیم کو برطرف کیا جائے اور معاملے کی آزاد عدالتی جانچ کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو سی بی ایس ای کے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کی واقعی فکر ہوتی تو ذمہ دار افراد کے خلاف زیادہ سخت کارروائی کی جاتی۔ ان کے بقول صرف انتظامی تبادلوں سے عوام کے سوالات ختم نہیں ہوں گے اور مکمل شفافیت کے لیے غیر جانبدار جانچ ضروری ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments