National

سرینگر جامع مسجد میں شب برات کے اجتماع پر پابندی، میرواعظ کشمیر خانہ نظر بند

سرینگر جامع مسجد میں شب برات کے اجتماع پر پابندی، میرواعظ کشمیر خانہ نظر بند

سرینگر : شب برات کے موقع پر جامع مسجد سرینگر میں عبادات و عوامی اجتماع پر پابند عائد کی گئی ہے جبکہ حکام نے میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کو ان کی رہائش گاہ واقع نگین میں نظر بند کر کے مکان کے باہر پولیس کا پہرا بٹھا دیا ہے۔ انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نماز عصر سے قبل ہی انجمن اوقاف کے عملہ کو پولیس کی جانب سے ’’جامع مسجد سرینگر کے دروازے بند کیے جانے کی ہدایت دی گئی کہ، کیونکہ شب برات کی تقریب اور عبادات کی اجازت نہیں ہے۔‘‘ انجمن اوقاف کا کہنا ہے کہ اس مقدس موقع کی نسبت سے پیشگی تیاریوں کے باوجود انجمن کو ہدایت دی گئی کہ ’’مسجد کو پوری رات بند رکھا جائے۔‘‘ انجمن اوقاف نے اس امر پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک بار پھر ایک اہم دینی موقع پر کشمیر کی تاریخی جامع مسجد میں اجتماعی عبادات پر پابندی عائد کرکے میرواعظ کو بھی نظر بند کر دیا گیا۔ یہ عمل 2019 سے جاری اُس سلسلے کا حصہ ہے جس کے تحت تاریخی جامع مسجد میں بڑے مذہبی اجتماعات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔‘‘ انجمن اوقاف کا انتظامیہ کے اس عمل کو ’’عوام کے مذہبی حقوق میں صریح مداخلت‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: ’’جب پورے خطے کی مساجد اور عبادت گاہیں اس مقدس رات میں عبادت گزاروں سے بھری ہوں گی، جامع مسجد سرینگر مقفل ہے اور میں خود گھر پر نظر بند ہوں۔‘‘ میرواعظ کے مطابق: ’’شب برات بھی اُن مواقع کی طویل فہرست میں شامل ہو گئی ہے جہاں 2019 سے وادی کی سب سے بڑی مسجد میں عبادات کو بزور طاقت روکا گیا۔ کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی، صرف بند دروازے اور خاموشی۔ جو لوگ ’نارملسی‘ اور ’نیا کشمیر‘ کے دعوے کرتے ہیں، ان کے لیے یہ تضاد خود وضاحت طلب ہے۔‘‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments