National

سروس آفیسرز کے لیے رہائشی سہولیات کی نئی پالیسی: والدین اور بہن بھائی بھی 'فیملی' میں شامل

سروس آفیسرز کے لیے رہائشی سہولیات کی نئی پالیسی: والدین اور بہن بھائی بھی 'فیملی' میں شامل

نئی دہلی، 11 فروری :) فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک اہم فیصلے میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سروس آفیسرز (مسلح افواج کے افسران) کو سرکاری رہائش گاہوں کے الاٹمنٹ کے مقصد کے لیے 'خاندان' کی تعریف میں توسیع کی منظوری دے دی ہے ۔ اس اقدام سے افسران کو اپنی خاندانی ذمہ داریاں نبھانے میں ریلیف اور زیادہ لچیلا پن ملنے کی توقع ہے ۔ خاندان کی نظرثانی شدہ تعریف کے تحت، اب 'فیملی' میں شریک حیات اور زیر کفالت بچوں یا سوتیلے بچوں کے علاوہ والدین، زیر کفالت بہن بھائی اور قانونی طور پر گود لیے گئے بچے بھی شامل ہوں گے ۔ اس توسیعی دائرہ کار سے مسلح افواج کے تمام سروس آفیسرز مستفید ہوں گے ، بشمول وہ غیر شادی شدہ خواتین افسران جو اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں اور ان کی کفالت کرتی ہیں۔ یہ فیصلہ 'والدین اور بزرگ شہریوں کی نگہداشت اور فلاح و بہبود ایکٹ، 2007' کی دفعات کے عین مطابق ہے ، جو بچوں پر اپنے والدین اور معمر شہریوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ڈالتا ہے ۔ رہائشی پالیسی میں والدین اور زیر کفالت بہن بھائیوں کو شامل کر کے ، حکومت نے ہندوستانی کنبوں کی بدلتی ہوئی ساخت اور افسران کے کندھوں پر بڑھتی ہوئی نگہداشت کی ذمہ داریوں کو تسلیم کیا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جدید خاندانی ڈھانچے کی ایک ترقی پسندانہ تفہیم کی عکاسی کرتا ہے ، جہاں افسران اکثر روایتی نیوکلیئر فیملی (چھوٹے کنبہ) سے ہٹ کر اضافی ذمہ داریاں بھی اٹھاتے ہیں۔ اسے بزرگ شہریوں کے وقار اور تعاون کو یقینی بنانے کی سمت میں بھی ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ، جن میں سے بہت سے اپنی رہائش اور دیکھ بھال کے لیے اپنے بچوں پر منحصر ہیں۔ وزیر دفاع کی یہ منظوری مسلح افواج کے اہلکاروں اور ان کے کنبوں کی فلاح و بہبود پر حکومت کی مسلسل توجہ کو ظاہر کرتی ہے ۔ رہائشی سہولیات کے ضوابط کو مضبوط بنا کر، اس فیصلے کا مقصد سماجی تحفظ کو بہتر بنانا، نسلوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا اور ایک ایسا جامع ڈھانچہ فراہم کرنا ہے جو عصر حاضر کی سماجی حقیقتوں کی عکاسی کرے ۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments