نئی دہلی، 28 جنوری :سپریم کورٹ نے بدھ کے روز یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے حال ہی میں نوٹیفائی کیے گئے قواعد وضوابط کو چیلنج کرنے والی عرضی کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے ۔ یہ قواعد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پر مبنی امتیاز کو روکنے کے مقصد سے بنائے گئے ہیں، تاہم درخواست گزار نے شکایات کے ازالے کے طریقہ کار سے جنرل زمرے کے طلبہ کو خارج کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ جب یہ عرضی چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے پیش ہوئی تو انہوں نے کہا، ''ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہو رہا ہے ۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ خامیوں کو دور کیا جائے ۔'' یہ قواعد وضوابط یو جی سی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کو فروغ دینے سے متعلق ضوابط، 2026 کے تحت آتے ہیں۔ ان قواعد کو 13 جنوری کو نوٹیفائی کیا گیا تھا اور یہ ملک کے متعدد اعلیٰ تعلیمی اداروں پر لاگو ہوتے ہیں۔ ان قواعد کا مقصد مذہب، نسل، جنس، جائے پیدائش، ذات یا معذوری کی بنیاد پر امتیاز کا خاتمہ کرنا ہے ۔ یہ قواعد بالخصوص درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، سماجی و تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات، معاشی طور پر کمزور طبقات اور معذور افراد کے ساتھ ہونے والے استحصال کو روکنے اور اعلیٰ تعلیم میں مساوات اور شمولیت کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ قواعد کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ محروم طبقات کے لیے پالیسیوں کے م¶ثر نفاذ کو یقینی بنانے اور امتیازی شکایات کی جانچ کے لیے مساوی مواقع کے مراکز اور مساواتی کمیٹیوں کا قیام کریں۔ تاہم سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ یہ قواعد اپنی نوعیت میں غیر منصفانہ ہیں کیونکہ یہ عمومی زمرے کے طلبہ کو شکایت ازالہ اور ادارہ جاتی تحفظ تک رسائی سے محروم کرتے ہیں۔ عرضی گزار نے موجودہ شکل میں ان قواعد کے نفاذ پر روک لگانے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے ۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذات کی شناخت کی بنیاد پر شکایت ازالہ کے نظام تک رسائی سے انکار کرنا "ناقابل قبول ریاستی امتیاز" کے مترادف ہے ۔ عرضی میں دلیل دی گئی ہے کہ اس طرح کا انتخابی ڈھانچہ عملی طور پر غیر محفوظ زمروں کے خلاف دشمنی کو فروغ دیتا ہے اور مساوات کے بنیادی مقصد کو کمزور کرتا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ان قواعد وضوابط کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں متعدد عرضیاں اور درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں۔
Source: UNI NEWS
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو