National

سپریم کورٹ: ذاتی مردم شماری پالیسی معاملہ، روک لگانے کی عرضی خارج

سپریم کورٹ: ذاتی مردم شماری پالیسی معاملہ، روک لگانے کی عرضی خارج

نئی دہلی، 20 مئی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ایک اہم فیصلے میں واضح کیا کہ موجودہ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک گیر مردم شماری کے حصے کے طور پر ذاتی کی گنتی کرانے میں کوئی غلط بات نہیں ہے ۔اس فیصلے کو بعض سیاست دانوں نے تاریخی کامیابی قرار دیا ہے ۔چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئمالیہ باغچی اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔عرضی میں مرکزی حکومت کے 2027 کی مردم شماری میں ذاتی گنتی شامل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔عدالت نے عرضی خارج کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حکومت کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ سماج میں کتنے لوگ پسماندہ ہیں اور کتنے افراد کو فلاحی اسکیموں کی ضرورت ہے ۔عدالت نے اسے مکمل طور پر پالیسی سے متعلق معاملہ قرار دیتے ہوئے 2027 کی مردم شماری میں ذات پر مبنی گنتی شامل نہ کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔یہ عرضی سدھاکر گمولہ نے دائر کی تھی۔عرضی میں کہا گیا تھا کہ ذات سے متعلق اعداد و شمار کا سیاست دان اور کارپوریٹ ادارے غلط استعمال کر سکتے ہیں۔اس پر چیف جسٹس کی بنچ نے واضح کیا کہ یہ طے کرنا عدالت کے دائرئہ اختیار میں نہیں آتا کہ ذاتی گنتی قومی مردم شماری کا حصہ ہونی چاہیے یا نہیں۔سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کئی رہنما¶ں اور دیگر افراد نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments