National

سپریم کورٹ میں سونم وانگچُک کی نظر بندی کا معاملہ: ویڈیوز فراہم نہ کرنے کا الزام، 23 فروری کو دوبارہ سماعت

سپریم کورٹ میں سونم وانگچُک کی نظر بندی کا معاملہ: ویڈیوز فراہم نہ کرنے کا الزام، 23 فروری کو دوبارہ سماعت

نئی دہلی: معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے جمعرات کے روز سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ اُن کے شوہر کی نظر بندی کی بنیاد بننے والی چار ویڈیوز نہ تو انہیں فراہم کی گئیں اور نہ ہی مکمل طور پر دکھائی گئیں، بلکہ صرف ایک پین ڈرائیو میں موجود تھمب نیلز دکھا کر کارروائی مکمل کر لی گئی۔ معاملے کی سماعت جسٹس اراوند کمار اور جسٹس پرسانا بی ورالے پر مشتمل بنچ نے کی۔ سینئر وکیل کپل سبل، جو گیتانجلی انگمو کی جانب سے پیش ہوئے، نے عدالت کو بتایا کہ ریاست کا دعویٰ ہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) لیپ ٹاپ کے ساتھ آئے اور 5 اکتوبر 2025 کو وانگچُک کو چار ویڈیوز دکھائیں، تاہم جب لیپ ٹاپ فراہم کیا گیا تو اس میں وہ ویڈیوز موجود ہی نہیں تھیں۔ سیبل کی معاونت کرنے والے ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پین ڈرائیو وانگچُک کے سامنے لیپ ٹاپ میں لگائی گئی، لیکن انہوں نے صرف ویڈیوز کے تھمب نیلز دیکھے۔ وکیل کے مطابق کسی بھی تھمب نیل پر کلک نہیں کیا گیا اور نہ ہی ویڈیوز چلائی گئیں۔ دوسری جانب ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل کے ایم نٹراج نے عدالت کو بتایا کہ ایک ویڈیو موجود ہے جس میں ڈی آئی جی اور زیرِ حراست شخص کے درمیان گفتگو ریکارڈ ہے۔ اس پر سیبل نے مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیوز کی عدم فراہمی وانگچُک کے مؤثر دفاع اور ایڈوائزری بورڈ کے سامنے مؤثر نمائندگی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔ سیبل نے دلیل دی کہ محض ویڈیو دکھا دینا قانون کی تکمیل نہیں ہے، بلکہ قانون کا تقاضا یہ ہے کہ متعلقہ مواد باضابطہ طور پر فراہم کیا جائے۔ “یہ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ دستاویزات فراہم کرے۔ زیرِ حراست شخص کو خود مانگنے کی ضرورت نہیں۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ چار ویڈیوز کبھی فراہم نہیں کی گئیں،” سیبل نے عدالت میں کہا۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ وہ متعلقہ ویڈیو ریکارڈنگز کا جائزہ لے گی، جن میں پولیس افسران اور وانگچُک کے درمیان تقریباً 40 منٹ کی گفتگو کی ویڈیو بھی شامل ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت 23 فروری 2026 مقرر کی ہے۔ پیر کے روز بھی عدالتِ عظمیٰ نے مرکز سے استفسار کیا تھا کہ وانگچُک کے خلاف پیش کی گئی ویڈیوز کے ٹرانسکرپٹس کتنے درست ہیں۔ بنچ نے زور دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور میں تراجم کی درستگی نہایت اہم ہے اور کسی بھی غلط ترجمے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ یہ درخواست گیتانجلی انگمو کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ، وانگچُک کی قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت نظر بندی کو غیر قانونی قرار دے۔ یہ مقدمہ نہ صرف نظر بندی کے قانونی تقاضوں بلکہ آئینی حقوق، شفافیت اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کے حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اب نگاہیں 23 فروری کی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں عدالت ویڈیوز اور ریکارڈنگز کا جائزہ لے کر آئندہ کی کارروائی کا تعین کرے گی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments