نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے اراولی پہاڑی سلسلے کی نئی تعریف کے معاملے پر سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی پانچ رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی میں زیادہ تر موجودہ یا سابق سرکاری افسران شامل ہیں، جس سے اس کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ان کے تبصرے کا مقصد کمیٹی کے ارکان پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ موجودہ حکومت کے طرزِ عمل کے تناظر میں خدشات کا اظہار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 29 دسمبر 2025 کو سپریم کورٹ نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20 نومبر 2025 کے اپنے سابق فیصلے کو مؤخر کر دیا تھا، کیونکہ اس کے نتیجے میں اراولی کے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ نئی قائم کردہ کمیٹی کی سربراہی مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے ایک حاضر سروس افسر کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ اس کا رکنِ سکریٹری بھی اسی وزارت کا موجودہ افسر ہے، جس سے کمیٹی کی آزادی اور غیر جانبداری پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراولی کے ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرہ اب بھی برقرار ہے اور گزشتہ برس عوام، میڈیا اور سول سوسائٹی کی جانب سے جس طرح دباؤ ڈالا گیا تھا، اسے مزید برقرار رکھنے اور بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اراولی کی نئی تعریف کا کوئی بھی قابلِ جواز سبب موجود نہیں ہے۔ خود فاریسٹ سروے آف انڈیا نے ستمبر 2025 میں اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔‘‘ History سپریم کورٹ نے 29 دسمبر 2025 کو اپنے 20 نومبر 2025 کے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا تھا، جس میں مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے اراولی سلسلے کی نئی تعریف کو قبول کیا گیا تھا۔ عدالت نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے پانچ رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم بھی دیا، جو اراولی پہاڑی سلسلے کی تعریف سے متعلق تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس معاملے میں مرکز اور اراولی سے متعلق چار ریاستوں راجستھان، گجرات، ہریانہ اور دہلی کو بھی نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب مرکزی حکومت نے اراولی سلسلے کی نئی تعریف 100 میٹر بلندی کے معیار کی بنیاد پر پیش کی تھی۔ بعد ازاں وزارتِ ماحولیات نے اراولی کے پورے علاقے میں نئے معدنی لیز جاری کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی تھی تاکہ غیر قانونی کان کنی پر قابو پایا جا سکے۔ اراولی پہاڑی سلسلہ تقریباً 670 کلومیٹر طویل ہے، جو دہلی سے شروع ہو کر ہریانہ، راجستھان اور گجرات تک پھیلا ہوا ہے۔ اسے بھارت کا قدیم ترین پہاڑی سلسلہ مانا جاتا ہے، جس کی عمر تقریباً دو ارب سال بتائی جاتی ہے۔ اس کی بلند ترین چوٹی گرو شکھر، راجستھان کے ماؤنٹ آبو میں واقع ہے۔
Source: Social Media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات