National

سپریم کورٹ کی ہدایت، بھوجشالہ-کمال مولا تنازعے کی ویڈیوگرافی سے متعلق فریقین کے اعتراضات کا جائزہ لے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ

سپریم کورٹ کی ہدایت، بھوجشالہ-کمال مولا تنازعے کی ویڈیوگرافی سے متعلق فریقین کے اعتراضات کا جائزہ لے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بھوجشالہ-کمال مولا متنازع مقام کی ویڈیوگرافی سے متعلق فریقین کے اعتراضات کا جائزہ لے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ ویڈیوگرافی کا معائنہ کرنے کے بعد تمام اعتراضات کو قدرتی انصاف کے اصولوں کے تحت سنے گی۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی میرٹ پر کوئی رائے ظاہر نہیں کی گئی ہے اور تمام نکات ہائی کورٹ کے سامنے کھلے ہیں۔ یہ تنازع آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی جانب سے کی گئی ویڈیوگرافی اور سائنسی سروے سے متعلق ہے، جو مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع اس مقام پر کیا گیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ نے نوٹ کیا کہ متنازعہ مذہبی مقام سے متعلق ویڈیو گرافی پر فریقین کی طرف سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کا حتمی سماعت کے دوران ہائی کورٹ فیصلہ کرے گا۔ بھوجشالہ-کمال مولا کمپلیکس کو ہندو فریق ایک قدیم مندر قرار دیتا ہے جو واگ دیوی (سرسوتی) کے نام پر 11ویں صدی میں تعمیر ہوا، جبکہ مسلم فریق اسے کمال مولا مسجد مانتا ہے جو 1514 میں محمود خلجی دوم کے دور میں تعمیر کی گئی۔ اے ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق، سائنسی تحقیق، کھدائی اور آثار قدیمہ کے تجزیے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ موجودہ ڈھانچہ قدیم مندروں کے اجزاء سے تیار کیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ تمام فریقین اے ایس آئی کی رپورٹ پر اپنے اعتراضات اور تجاویز آئندہ سماعت سے قبل جمع کرائیں، جو 2 اپریل کو مقرر ہے۔ عدالت نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ سماعت سے قبل مقام کا دورہ کر سکتی ہے۔ اے ایس آئی نے اس متنازع مقام پر 98 دن تک سائنسی سروے کیا تھا اور 15 جولائی 2024 کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ رپورٹ میں قدیم مجسموں، نقوش اور سنسکرت و پراکرت زبان کے کتبوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو اس مقام کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ معاملہ ایک حساس مذہبی اور تاریخی تنازع کی حیثیت رکھتا ہے، جس پر اب حتمی فیصلہ ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت کے بعد متوقع ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ تمام فریقین کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے گا تاکہ شفافیت اور انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ ذرائع کے مطابق، ویڈیوگرافی اور سائنسی سروے کی بنیاد پر مقام کی اصل حیثیت کے تعین میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔ اس معاملے پر مختلف سماجی اور مذہبی حلقوں کی گہری نظر ہے، جس کے باعث سکیورٹی انتظامات بھی سخت رکھے جا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ ہائی کورٹ کا آئندہ فیصلہ اس طرز کے دیگر تنازعات کے لیے بھی ایک نظیر قائم کر سکتا ہے۔ ریاستی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ امن و امان برقرار رہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments