نئی دہلی، 28 جنوری: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مدراس ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس سنجے کشن کول کو تمل ناڈو کے کانچی پورم میں واقع 'شری دیوراج سوامی مندر' میں پوجا کے دوران منتروں کے جاپ اور انتظام کے حوالے سے تھینگلئی (جنوبی فرقہ) اور وڈگلئی (شمالی فرقہ) ویشنو برادریوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کو باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے ثالث مقرر کیا ہے ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئمالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے جسٹس کول کو ثالثی کے عمل میں مدد کے لیے متعلقہ زبان، مندر کی رسومات اور مذہبی روایات کے ماہر دو اضافی افراد کو ساتھ جوڑنے کی اجازت دی ہے ۔ جسٹس کول 2023 میں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائر ہوئے تھے ۔ یہ تنازع اس پرہے کہ آیا وڈگلئی فرقے کے ارکان مندر کی پوجا کے سرکاری رسومات والے حصے کے دوران اپنی علیحدہ پرارتھنا یا منتر شروع کر سکتے ہیں، جسے تاریخی طور پر 'ادھیاپک میراسی' روایت کے تحت تھینگلئی عہدیدار انجام دیتے آئے ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ کی یہ مداخلت مدراس ہائی کورٹ کے دسمبر 2025 کے اس فیصلے کے تناظر میں ہوئی ہے ، ، جو راج ہنسم بمقابلہ نارائنن کیس میں دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں جسٹس آر سریش کمار اور جسٹس ایس سندر پر مشتمل بنچ نے شری دیوراج سوامی مندر میں سرکاری رسمی پوجا، جسے ادھیاپک میراسی کہا جاتا ہے ، انجام دینے کے لیے تھینگلئی برادری کے خصوصی حقوق کو برقرار رکھا تھا۔ ہائی کورٹ نے وڈگلئی ارکان کی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا جن میں رسمی پوجا کے دوران اپنا الگ 'منتر' اور 'پربندھم' پڑھنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اس طرح کی کوششیں قائم شدہ عدالتی احکامات میں رکاوٹ پیدا کریں گی اور ممکنہ طور پر امن و امان کی صورتحال بگاڑ سکتی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وڈگلئی فرقے کے انفرادی ارکان اور دیگر عقیدت مند 'ادھیاپک' عہدیداروں کے ذریعے پڑھے جانے والے پاٹھ (منتروں) کو دہرا کر پوجا میں شامل ہونے کے لیے آزاد ہیں، لیکن وہ باضابطہ رسومات کے دوران آزادانہ طور پر نہیں کر سکتے ۔ جب یہ معاملہ عدالتِ عظمیٰ میں آیا تو بنچ نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ رامانجا چاریہ کے پیروکاروں کے درمیان یہ تنازع فرقہ وارانہ تصادم میں نہیں بدلنا چاہیے ۔ عدالت نے کہا کہ یہ مسئلہ دشمنی پر مبنی قانونی فیصلے کے بجائے بھائی چارے ، بقائے باہمی اور صلح کا تقاضا کرتا ہے ۔ فریقین کے وکلاءاس بات پر متفق ہوئے کہ اس تنازع کا حل ثالثی کے ذریعے نکالا جانا چاہیے اور انہوں نے مندر کی رسومات، تمل مذہبی رواجوں اور اس موضوع پر تاریخی فیصلوں سے واقف کسی سابق جج کی تقرری کی تجویز دی۔ اس تناظر میں جسٹس سنجے کشن کول کا نام اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز کیا گیا کہ وہ مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں اور ریاست کی ادارہ جاتی اور ثقافتی روایات سے بخوبی واقف ہیں۔ فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے کو درج کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ ثالثی میں مندر کی پوجا کی باریکیوں، مذہبی حقوق اور موجودہ عدالتی احکامات کو سمجھنے پر توجہ دینی چاہیے ، نہ کہ قانون کے طے شدہ سوالات کو دوبارہ کھولنا چاہیے ۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ثالثی مکمل ہونے تک موجودہ صورتحال کو سختی سے برقرار رکھا جائے ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مندر کے احاطے کے اندر پولیس کی موجودگی نہیں ہونی چاہیے ، خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ ایسی مداخلت 'بہت بری' ہوگی اور امن برقرار رکھنے کے بجائے صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے ۔ بنچ نے مزید ہدایت دی کہ کوئی بھی فرقہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جس سے ثالثی کے عمل کے دوران امن و امان کی صورتحال پیدا ہو۔ فریقین کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ اگر ان کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہو جاتا ہے یا ریاستی حکومت کی کسی قسم کی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے ، تو وہ اس معاملے کا تذکرہ عدالت کے سامنے کر سکتے ہیں۔
Source: UNI NEWS
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو