National

سونیا گاندھی نے خامنہ ای کے قتل پر مودی سرکار کی خاموشی کی مذمت کی، پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ

سونیا گاندھی نے خامنہ ای کے قتل پر مودی سرکار کی خاموشی کی مذمت کی، پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ

نئی دہلی: مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے منگل کو کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ٹارگٹ کلنگ پر حکومت کی خاموشی غیر جانبدارانہ نہیں بلکہ 'فرض سے غفلت' ہے۔ اس سے بھارت کی خارجہ پالیسی کی ساکھ اور سمت کے بارے میں سنگین شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر نے مطالبہ کیا کہ جب پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا دوسرا حصہ شروع ہو تو عالمی نظام کے ٹوٹنے پر سرکار کی "پریشان کن خاموشی" پر بغیر کسی ٹال مٹول کے کھلی بحث ہونی چاہیے۔ ایک اخبار میں شائع ایک مضمون میں گاندھی نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر اپنی اخلاقی طاقت کو "دوبارہ پانے" کی ضرورت ہے اور اس کا واضح طور پر اور پُر عزم انداز میں اظہار کرنا ہے۔ گاندھی نے کہا کہ "یکم مارچ کو ایران نے تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو حالیہ امریکی اور اسرائیل کے ٹارگٹ حملوں میں قتل کر دیا گیا۔ جاری مذاکرات کے دوران ایک موجودہ سربراہ مملکت کا قتل آج کے بین الاقوامی رشتوں میں بڑی دراڑ ظاہر کرتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے صدمے کے علاوہ جو بات اتنی ہی واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ ہے 'نئی دہلی کی خاموشی۔' انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے اس قتل یا ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔ گاندھی نے کہا کہ "ابتدا میں امریکہ-اسرائیل کے بڑے حملے کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیر اعظم (نریندر مودی) نے یو اے ای پر ایران کے جوابی حملے کی مذمت تک خود کو محدود رکھا، بغیر اس سے پہلے کے واقعات پر بات کیے۔ بعد میں انہوں نے اپنی "گہری تشویش" کے بارے میں عام باتیں کہیں اور "مکالمہ و سفارت کاری" کے بارے میں بات کی - جو کہ اسرائیل اور امریکہ کے ذریعہ کیے گئے بڑے اور بلا اشتعال حملوں سے پہلے یہی چل رہا تھا۔ گاندھی نے اپنے مضمون میں کہا کہ "جب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹ کلنگ پر ہمارے ملک کی خودمختاری یا بین الاقوامی قانون کا کوئی واضح دفاع نہیں ہوتا، اور غیر جانبداری کو ترک کر دیا جاتا ہے، تو یہ ہماری خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ پر سنگین شکوک پیدا کرتا ہے۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس معاملے میں خاموشی غیر جانبدارانہ نہیں ہے۔ گاندھی نے نشاندہی کی کہ یہ قتل جنگ کے باضابطہ اعلان کے بغیر اور جاری سفارتی عمل کے دوران ہوا۔ انہوں نے کہا کہ "اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 2(4) کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے منع کرتا ہے۔ موجودہ ریاست کے سربراہ کی ٹارگٹ کلنگ ان اصولوں کے دل پر حملہ ہے۔" انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی طرف سے بغیر کسی اصولی اعتراض کے ایسے کام ہوتے ہیں تو بین الاقوامی قوانین کا ختم ہونا معمول بن جاتا ہے۔ گاندھی نے مزید کہا کہ "ٹائمنگ کی وجہ سے بے چینی مزید بڑھ جاتی ہے۔" قتل سے بمشکل 48 گھنٹے قبل وزیراعظم اسرائیل کے دورے سے واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے غزہ جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی غم و غصے کے باوجود بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کے لیے اپنی حمایت کا واضح طور پر اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب گلوبل ساؤتھ کے بیشتر ممالک بشمول بڑی طاقتیں اور بھارت کے برکس پارٹنرز جیسے روس اور چین نے اسرائیل سے دوری بنا رکھی ہے، بھارت کی اعلیٰ سطح کی سیاسی حمایت بغیر کسی اخلاقی وضاحت کے ایک واضح اور پریشان کن تبدیلی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "اس واقعے (خامنہ ای کے قتل) کے نتائج جغرافیائی سیاست سے بالاتر ہیں۔ اس المناک واقعے کے اثرات تمام براعظموں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اور بھارت کا موقف اس تکلیف دہ واقعے کو اپنی خاموش حمایت دے رہا ہے۔" سونیا گاندھی نے نشاندہی کی کہ کانگریس پارٹی نے واضح طور پر ایرانی سرزمین پر بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کی ہے اور اسے سنگین علاقائی اور عالمی نتائج کے ساتھ خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے ایرانی عوام اور دنیا بھر کی شیعہ برادری کے تئیں اپنی تعزیت کا اظہار کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے، جیسا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51 میں درج ہے۔ خود مختاری کی برابری، عدم مداخلت اور امن کو فروغ دینے کے یہ اصول تاریخی طور پر بھارت کی سفارتی پہنچان کا حصہ رہے ہیں۔ اس لیے ابھی کی خاموشی صرف حکمت عملی نہیں، بلکہ ہمارے بیان کردہ اصولوں سے الگ محسوس ہوتی ہے۔"

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments