National

سونم وانگچک قومی سلامتی کے لیے خطرہ، مرکز کا سپریم کورٹ میں سخت موقف، کہا- لداخ کو نیپال-بنگلہ دیش بنانا چاہتے تھے

سونم وانگچک قومی سلامتی کے لیے خطرہ، مرکز کا سپریم کورٹ میں سخت موقف، کہا- لداخ کو نیپال-بنگلہ دیش بنانا چاہتے تھے

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ لداخ تشدد معاملے میں سونم وانگچک کی گرفتاری کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کے دوران مرکز نے کہا کہ وانگچک کے بیانات اور سرگرمیاں ملک کی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہیں اور وہ لداخ کو نیپال اور بنگلہ دیش جیسی صورتِ حال میں دھکیلنا چاہتے تھے، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ معاملہ جسٹس اروند کمار اور جسٹس پرسنّا وی ورالے پر مشتمل بنچ کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔ مرکز کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک کی تقاریر اور عوامی بیانات میں ایسا مواد پایا جاتا ہے جو نوجوانوں کو اکسانے اور قومی اتحاد کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ زہر ہم ملک میں پھیلنے نہیں دے سکتے، اس لیے قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے سخت کارروائی ضروری تھی“۔ سالیسیٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ نے دستیاب شواہد اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر وانگچک کی گرفتاری کا فیصلہ لیا۔ ان کے مطابق، وانگچک کی تقریروں میں نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی مثالیں دے کر لداخ کے نوجوانوں کو ریاستی ڈھانچے کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی گئی، جو کہ نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے نفاذ کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ مرکز نے یہ بھی واضح کیا کہ سونم وانگچک کو لداخ تشدد کیس میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس وقت وہ جودھپور جیل میں عدالتی تحویل میں ہیں۔ حکومت کے مطابق ان کی گرفتاری کسی سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ امن و امان اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر کی گئی۔ معاملے کی پس منظر بیان کرتے ہوئے مرکز نے بتایا کہ 10 ستمبر 2025 کو لیہہ میں لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت تحفظ فراہم کرنے کے مطالبے پر مظاہرے شروع ہوئے۔ ان مظاہروں کے دوران سونم وانگچک بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ 23 ستمبر کو دو مظاہرین کی طبیعت بگڑنے کے بعد بند کی اپیل کی گئی، جس کے اگلے ہی دن حالات بگڑ گئے۔ 24 ستمبر کو بند کے دوران تشدد پھوٹ پڑا، مظاہرین نے سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا اور بی جے پی دفتر کو بھی آگ لگا دی گئی۔ حالات قابو سے باہر ہونے پر فورسز نے آنسو گیس کا استعمال اور لاٹھی چارج کیا، جس میں دس سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعد ازاں لیہہ میں کرفیو نافذ کیا گیا۔ تفتیش کے بعد پولیس نے تشدد کے لیے سونم وانگچک کو ذمہ دار ٹھہرایا، جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments