National

"سنگھ میں بھیڑ تو بڑھی، مگر اچھے لوگ کم”؛ کیلاش وجے ورگیہ

"سنگھ میں بھیڑ تو بڑھی، مگر اچھے لوگ کم”؛ کیلاش وجے ورگیہ

بھوپال: مدھیہ پردیش حکومت میں شہری ترقی کے وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما کیلاش وجے ورگیہ کا آر ایس ایس سے متعلق ایک بیان سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بھوپال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنگھ کا دائرہ تو وسیع ہوا ہے، مگر اب ہر شخص خود کو آر ایس ایس سے وابستہ بتانے لگا ہے۔ کیلاش وجے ورگیہ نے سرکاری افسران پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد تقریباً ہر افسر دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا تعلق آر ایس ایس سے رہا ہے۔ ان کے مطابق کوئی کہتا ہے کہ اس نے سنگھ کی پٹی باندھی اور وردی پہنی، تو کوئی اپنے والد کے آر ایس ایس سے تعلق کا حوالہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر شخص خود کو سنگھ کا قریبی ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے خطاب میں وجے ورگیہ نے کہا کہ اگرچہ تنظیم مسلسل پھیل رہی ہے اور اس کی نظریاتی پہنچ میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن تنظیم کے اندر موجود افراد کے معیار پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق آر ایس ایس میں لوگوں کی تعداد تو بڑھ گئی ہے، مگر اچھے اور باکردار افراد پہلے کے مقابلے میں کم ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نظریے کے ساتھ اچھے لوگ نہ ہوں تو صرف تنظیم کا پھیلاؤ کافی نہیں ہوتا۔ یہ بیان شالیگرام تومر کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران دیا گیا، جہاں حکومت اور تنظیم سے وابستہ کئی رہنما بھی موجود تھے۔ وجے ورگیہ کے ریمارکس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں اور ان کے مختلف سیاسی معنی نکالے جا رہے ہیں۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments